یمنی صدر واپس وطن پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption علی عبداللہ صالح اپنے محل پر گولہ باری میں زخمی ہوئے تھے

یمن کے سرکاری ٹی وی کے مطابق صدر علی عبداللہ صالح تین ماہ کے بعد واپس وطن پہنچ گئے ہیں۔

صدر صالح رواں برس جون میں قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد علاج کی غرض سے سعودی عرب چلے گئے تھے۔

ادھر یمن کے دارالحکومت صنعا میں سکیورٹی فورسز اور حکومت مخالف مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور اتوار سے اب تک ان جھڑپوں میں اسّی سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

یمن میں تین عشروں سے زیادہ عرصے سے برسرِاقتدار علی عبداللہ صالح سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے لیکن وہ اس مطالبے کو رد کرتے آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یمن میں آٹھ ماہ سے صدر صالح کے تینتیس سالہ دورِ اقتدار کے خاتمے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے

یمن میں حکومت اور مظاہرین کے مابین ’جنگ بندی‘ کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ اس جنگ بندی کا مقصد اس اصلاحی پروگرام پر عملدرآمد کرنا ہے جس کے تحت صدر صالح اقتدار سے الگ ہو جائیں گے۔

منگل کو یمنی حکومت نے مغربی ایلچیوں سے ملاقات کے بعد جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ تاہم چند گھنٹے بعد ہی یہ سیز فائر ختم ہو گیا تھا اور بدھ کو بھی گولہ باری اور سنائپر فائرنگ سے تین افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

بدھ کو پی خلیج تعاون کونسل کی جانب سے اس بحران کا حل نکالنے کے لیے ثالثی کی کوشش ناکام ہوگئی تھی۔

دیگر عرب ممالک میں حکومتوں کے خلاف تحریکوں سے متاثر ہو کر یمن میں بھی لوگ آٹھ ماہ سے صدر صالح کے تینتیس سالہ دورِ اقتدار کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں