سرت: قذافی مخالف جنگجوؤں کی پیش قدمی

لیبیا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption این ٹی ایس کے جنگجو سرت شہر میں کافی اندر تک جا چکے ہیں۔

لیبیا میں عبوری حکومت کے جنگجوؤں نے کرنل قذافی کی حامی فوج ایک آخری مضبوط گڑھ سرت میں پیش قدمی کی ہے۔

ایک موقع پر عبوری حکومت کے جنگجو سرت شہر کے مرکز سے صرف ایک کلومیٹر دور پہنچ گئے تھے۔

سرت میں قذافی کی حامی فوج اور مخالف فوج کے مابین جھڑپیں جاری ہیں۔

لیبیا کی نیشنل ٹراشنل کونسل کے فوجیوں کے مغرب کی جانب سے ساحلی شہر سرت میں داخل ہونے کے بعد وہاں سے سیاہ دُھواں اٹھتا دیکھا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق این ٹی سی کی فوج مشرق کی جانب سے بھی شہر میں داخل ہوئی ہے۔ سرت کرنل قذافی کا آبائی شہر ہے۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ کرنل قذافی یا ان کے خاندان کا کوئی فرد شہر میں موجود ہے یا نہیں۔

سرت کرنل قذافی کے حامیوں کے دو مضبوط ٹھکانوں میں سے ایک ہے جہاں این ٹی سی کی فوج کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں کئی حملے ناکام بنائے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق قذافی کی حامی فوج نے شہر کے مغرب میں ایک کلو میٹر کے حصہ پر قبضے کر رکھا ہے۔

این ٹی سی کے ایک جنگجو نے خبر رساں ادارے کو بتایا کے قذافی کی حامی فوج مسجدوں اور دوسری عمارتوں پر سے گولیاں چلا رہے ہیں۔ ’ وہ لوگ گھروں اور عوامی عمارتوں کو استعمال کر رہے ہیں۔

طبی کارکنوں نے خبر رساں ادارے اے ایف کو بتایا ہ عبروی حکومت کے دو فوج ہلاک ہوئے ہیں۔

این ٹی سے کا کہنا ہے شہر کا مشرقی داخلی راستہ محفوظ بنا دیا گیا ہے جبکہ ان کی فوج شہر مںی دس کلو میٹر تک اندر جاچکی ہے۔ اگر ان اطلاعات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ان کی شہر کے اندر اب تک کی سب سے زیادہ پیش رفت ہے۔

عبروی حکومت کی فوج کو کرنل قذافی کے دوسرے مضبوط گڑھ بنی ولید میں بھی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ بنی ولید دارالحکومٹت طرابلس سے جنوب مشرق کی جانب ہے۔

دہائیں سے لیبیا کے حکمران رہنے والے کرنل معمر قذافی کے متعدد ساتھی اور ان کے خاندان کے بیشت لوگ ہمسایہ ممالک الجیریا اور نائجر جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں