’اسرائیل، فلسطین امن مذاکرات بحال کریں‘

Image caption یہودی نوآبادی کی تعمیر کے احتجاج پر فریقین میں مذاکرات گزشتہ برس ستمبر سے تعطل کا شکار ہیں۔

مشرقِ وسطٰی کے چار رکنی ثالثی گروپ نے اسرائیل اور فلسطین سے اپیل کی ہے کہ وہ امن مذاکرات ایک ماہ کے اندر بحال کریں اور سنہ دو ہزار بارہ کے آخر تک کسی نتیجے پر پہنچیں۔

یورپی یونین، اقوامِ متحدہ، امریکہ اور روس نے یہ اپیل فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں اس درخواست کے جمع کرانے کے بعد کی ہے جس میں انہوں نے اقوامِ متحدہ میں فلسطین کو مکمل ریاست کی رکنیت کا مطالبہ کیا ہے۔

فلسطین کی رکنیت کی درخواست دائر

امریکہ فلسطینی رکنیت کو ویٹو کرے گا

عالمی اکثریت آزاد فلسطینی ریاست کی حامی

اسرائیل اور فلسطین میں براہِ راست مذاکرات ستمبر سنہ دو ہزار دس سے تعطل کا شکار ہیں۔ ان مذاکرات کا فلسطینیوں نے مقبوضہ غربِ اردن میں یہودی نوآبادی کی تعمیرات کے خلاف احتجاج کے طور پر بائیکاٹ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسرائیل اور فلسطین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مذاکرات بحال کریں۔

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کو بتایا تھا کہ تنازع کی اصل وجہ یہودی آبادکاری نہیں بلکہ فلسطینیوں کی جانب سے یہودی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار ہے۔

چار رکنی ثالثی گروپ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ماہ کے اندر فریقین کے درمیان ایجنڈا اور مذاکرات کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ابتدائی اجلاس منعقد کیے جائیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان اجلاس میں دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا جائے کہ ان مذاکرات کے ذریعے طے شدہ ٹائم فریم کے اندر سنہ دو ہزار بارہ کے آخر تک کسی اتفاقِ رائے تک پہنچا جائے گا۔

چار رکنی ثالثی گروپ نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کو چاہیے کہ تین ماہ کے اندر پھر وہ سکیورٹی اور حدود بندی پر وضاحت کے ساتھ تجاویز تیار کریں اور اس کے بعد چھ ماہ میں وہ مذاکرات میں کافی پیش رفت کرلیں۔

بیان میں کہا گیا ہے ’اس کے بعد مناسب موقع پر ماسکو میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں تمام توجہ طلب مسائل کے حل کی تجاویز کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔‘

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ بیرونس کیتھرین ایشٹن کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ فریقین اس منصوبہ پر مثبت ردعمل کا اظہار کریں گے۔

انہوں نے کہا ’اگر اس تنازع کو حل کرنے کا کوئی وقت ہے تو وہ ابھی ہے۔ ابھی اس لیے کہ اسرائیل اپنی سکیورٹی کی جانب سے فکرمند ہے اور اس لیے کہ فلسطینی عوام ایک لمبے عرصہ سے اپنے ملک کے قیام کا انتظار کررہے ہیں۔‘

اسی بارے میں