ترکی نے شامی بحری جہاز ضبط کر لیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام کے ڈکٹیٹر کا عہد ختم ہو چکا ہے: طیب اردگان

ترکی کے وزیرِاعظم طیب اردگان نے کہا کہ ان کے ملک نے شام کے لیے ہتھیاروں سے لیس ایک بحری جہاز کو پکڑ لیا ہے۔

انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس جہاز کو کب اور کہاں روکا گیا تاہم انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترکی کی سمندری یا فضائی حدود سے شام کے لیے ہتھیار لے جانے والے جہازوں کو ضبط کرلیا جائے گا۔

واضح رہے کہ طیب اردگان، شام کے صدر بشار الاسد پر ان کی حکومت کی جانب سے مظاہرین پر کیے جانے والے تشدد کی مذمت کرتے رہے ہیں۔

ترکی کے وزیرِ اعظم طیب اردگان نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ شام کے ڈکٹیٹر کا عہد ختم ہو چکا ہے۔

ترکی کی اناتولیا نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ترکی کے وزیرِ اعظم طیب اردگان نے نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر بتایا کہ ان کے ملک نے شام کے لیے جانے والے ہتھیاروں سے لیس ایک بحری جہاز کو پکڑا ہے۔

نیو یارک میں بی بی سی کے نامہ نگار میتھیو ویل کے مطابق اس تازہ واقعہ نے دونوں ممالک کے پہلے سے بگڑتے تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ترک حکومت، شامی حکومت کے مخالفین کی جانب سے ملک میں سیاسی اصلاحات نافذ کرنے کے مطالبے پر عملدرآمد نہ کرنے سے پہلے ہی ناراض ہے۔

اس سے پہلے رواں ہفتے کے شروع میں مسٹر اردگان نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ترکی کا شام کی قیادت سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور انہوں نے خبردار کیا ہے کہ شام پر پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں۔

واضح رہے کہ ترکی نے اس ماہ کے اوائل میں شام کے حزبِ اختلاف کے گروپوں کی ایک کانفرنس کی میزبانی بھی کی تھی۔

شام میں غیر ملکی صحافیوں کے داخلے پر پابندی ہے جس کی وجہ سے وہاں کے مقامی کارکنوں اور حکام کی جانب سے موصول ہونے والی کسی بھی خبر کی تصدیق نہیں ہوسکتی۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے شام میں گزشتہ پانچ ماہ کے دوران حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک بائیس سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں