فلسطینی صدر کا والہانہ عوامی استقبال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فلسطینی صدر محمود عباس نے جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل پر زور دیا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کی 1967 سے پہلے والی سرحدوں کی حمایت کرے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپس لوٹنے پر غربِ اردن میں پُرتپاک عوامی استقبال ہوا ہے۔

فلسطینی صدر نے اقوامِ متحدہ میں فلسطین کو باقاعدہ ریاست کا درجہ دینے کی درخواست جمع کرائی تھی۔

صدر محمود عباس نے رملہ میں استقبال کے لیے جمع ہونے والے ہزاروں فلسطینیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ اس وقت تک مذاکرات نہیں ہوں گے جب تک یہودی آباد کاری مکمل طور پر روکی نہیں جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ’ہم نے ہر ایک پر زور دیا ہے کہ ہم پرامن طریقے سے اپنا حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں، بات چیت کے ذریعے لیکن صرف مذاکرات سے نہیں، ہم بات چیت پر اس وقت راضی ہونگے جب بین الاقوامی قوانین کو اس کا بنیادی حصہ بنایا جائے گا۔‘

دریں اثناء اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے فلسطین کو غیر مشروط بات چیت کی پشکش کی ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ آپ اس وقت تک بات چیت ختم نہیں کر سکتے جب تک اس کا آغاز نہیں کرتے۔‘

’اگر ہم صرف مذاکرات شروع کرنے پر بات کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم گزشتہ اڑھائی سال سے کر رہے ہیں تو اس صورت میں ہم زیادہ دور تک نہیں جا سکتے ہیں۔

اس سے پہلے مشرقِ وسطٰی کے چار رکنی ثالثی گروپ نے اسرائیل اور فلسطین سے اپیل کی ہے کہ وہ امن مذاکرات ایک ماہ کے اندر بحال کریں اور سنہ دو ہزار بارہ کے آخر تک کسی نتیجے پر پہنچیں۔

اسرائیل اور فلسطین میں براہِ راست مذاکرات ستمبر سنہ دو ہزار دس سے تعطل کا شکار ہیں۔ ان مذاکرات کا فلسطینیوں نے مقبوضہ غربِ اردن میں یہودی نوآبادی کی تعمیرات کے خلاف احتجاج کے طور پر بائیکاٹ کیا تھا۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطین ریاست کی 1967 سے پہلے والی سرحدوں کی حمایت کرے۔

انھوں نے تقریر کے دوران فلسطینی ریاست کی درخواست دیکھاتے ہوئے کہا کہ فلسطین نے نیک نیتی کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تھا تاہم انھوں نے الزام عائد کیا کہ یہودی آبادیوں میں توسیع کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہو گئے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تنازع کی بنیادی وجہ یہودی بستیاں نہیں تھیں بلکہ فلسطین کی جانب سے اسرائیل کو ایک یہودی ریاست تسلیم کرنے سے انکار کرنا تھا۔‘

اسی بارے میں