کربلا میں سلسلہ وار دھماکے، نو ہلاک

عراق، فائل فوٹو
Image caption عراق میں تشدد کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔

عراق کے شہر کربلا میں ایک سرکاری عمارت کے باہر ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں میں کم سے کم نو افراد ہلاک اور سو کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق پہلا دھماکہ قومی شناحتی کارڈ اور پاسپورٹ کے سرکاری دفتر کے باہر ایک کار میں ہوا۔

اسی مقام پر کم سے کم دو دھماکے اس وقت ہوئے جب امدادی ٹیمیں وہاں پہنچیں۔

عراق کا شہر کربلا شیعہ مسلمانوں کا مقدّس مقام مانا جاتا ہے اور یہ ماضی میں بھی فرقہ وارانہ تشدد کا شکار رہا ہے۔

جنوری میں بھی اس شہر میں اہلِ تشیع کی زیارتوں پر ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم سے کم پچیس افراد ہلاک اور ستر زخمی ہو گئے تھے۔

اتوار کے روز ہونے والا پہلا دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے نو بجے ہوا۔ دھماکے کے وقت بہت سے لوگ سرکاری دفتر کے سامنے قطار میں کھڑے تھے۔

ایک پولیس افسر نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’جس وقت لوگ اور سکیورٹی اہلکار زخمیوں اور لاشوں کو وہاں سے ہٹا رہے تھے کہ دو اور دھماکے ہو گئے۔‘

کربلا شہر کے طبی اہلکار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں