سعودی عرب: خواتین کو ووٹ دینے کا حق

سعودی خواتین
Image caption حکومت کے اعلان کے مطابق خواتین آئندہ انتخابات میں ووٹ ڈال پائیں گی۔

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ نے بلدیاتی اتنخابات میں خواتین کے ووٹ دینے کے حق کو تسلیم کیا ہے۔ اب سعودی عرب میں جلد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں خواتین ووٹ دینے کی مجاز ہونگیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اب عرب خواتین کو شورٰی کونسل میں مشیر کے عہدے پر منتخب ہونے کا حق بھی حاصل ہوگا۔

سعودی حکومت کی جانب سے اس قدم کا انسانی حقوق کی وہ تنظیمیں استقبال کریں گی جو سعودی خواتین کے حقوق کے لیے لڑتی رہی ہیں۔

دریں اثناء امریکہ اور برطانیہ نے شاہ عبداللہ کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔

سعودی عرب میں جلد ہی بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں اور لیکن اس بار ہونے والے انتخابات میں خواتین حصہ نہیں لے پائیں گی۔ حکومت کے اعلان کے مطابق وہ آئندہ انتخابات میں ووٹ ڈال پائیں گی۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق شاہ عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا ’شریعت کے دائرے میں رہ کر خواتین سماج میں جو بھی کردار ادا کرسکتی ہیں ہم انہیں اس سے محروم نہیں رکھ سکتے ہیں۔ اپنے سینئر علماء کے ساتھ غور و فکر کے بعد ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ خواتین کو بھی شوریٰ کونسل کا حصہ بنایا جائے‘۔

انکا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کے کارکنان نے سعودی عرب کی خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔

واضح رہے کہ کچھ ماہ قبل سعودی عرب کی ایک خاتون کو ڈرائیونگ کی پابندی کو چیلنج کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔

نجلہ حریری کو انٹرنیٹ پر ڈرائیورنگ کی ویڈیو جاری کرنے کے چند روز بعد ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

سعودی عرب میں خواتین کو کار چلانے کی اجازت نہیں ہے لیکن نجلہ حریری نے اپنی کار خود چلانی شروع کی تھی اور انہوں نے اس ممانعت کو چیلنج کیا تھا۔

سعودی عرب کے دور دراز علاقوں میں کبھی کبھی خواتین گاڑی چلاتی پائی جاتی ہیں لیکن اس طرح کے بڑے شہر میں خاتون کی ڈرائیونگ کے واقعات نادر ہیں۔

سعودی عرب ایک روایت پرست سماج ہے اور وہاں ابھی بھی خواتین کو مرد رشتے دار کی اجازت کے بغیر ملازمت کرنے اور میڈیکل آپریشن کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

اسی بارے میں