برمنگھم: دہشت گردی کا الزام، چھ گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گرفتار ہونے والے تمام افراد کا تعلق برمنگھم سے ہے: پولیس

برطانوی پولیس کا کہنا ہے اس نے دہشت گردی کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار کیا ہے جس میں سے ایک مبینہ طور پر خود کش حملوں کی مہم میں شامل رہا ہے۔

ویسٹ مڈ لینڈز پولیس کے مطابق ان چھ میں سے چار افراد کو برطانیہ میں دہشت گردی پھیلانے کے قانون کے تحت جبکہ دو کو اس بارے میں معلومات فراہم نہ کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ گرفتاریاں برطانوی شہر برمنگھم میں گزشتہ ہفتے ہونے والے پولیس آپریشن کے بعد ہوئی ہیں۔

پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے تمام افراد کا تعلق برمنگھم سے ہے اور ان کی عمریں پچیس سے بتیس سال کے درمیان ہیں جنھیں پیر کے روز مغربی لندن کے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کی جائے گا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سپارک ہل علاقے کے تیس سالہ عرفان ناصر اور بلسال ہیتھ کے چھبیس سالہ عرفان خالد پر برطانیہ میں دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری، پاکستان جا کر دہشت گردی کی تربیت حاصل کرنے، شہداء کی ویڈیو بنانے اور بمباری کی مہم کی تیاری کرنے کا الزام ہے۔

ان دونوں پر دہشت گردی کے لیے دھماکہ خیز مواد کی تیاری کرنے کا بھی الزام ہے۔

بلسال ہیتھ کے چھبیس سالہ عاشق علی پر دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری کے علاوہ دہشت گردی کے لیے جگہ فراہم کرنے کا بھی الزام ہے۔

موسلی کے پچیس سالہ راہن احمد پر دہشت گردی کے لیے رقم فراہم کرنے کا الزام ہے۔

پولیس کے مطابق سپارک بروک کے بتیس سالہ محمد رضوان اور اٹھائیس سالہ بہادر علی پر دہشت گردی کی معلومات فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ان دونوں پر یہ بھی الزام ہے کہ ان کے پاس انتیس جولائی سے انیس ستمبر کے دوران ہونے والی دہشت گردی کی معلومات تھیں تاہم انہوں نے پولیس کو یہ معلومات فراہم نہیں کیں۔

بہادر علی پر دہشت گردی کے لیے رقم فراہم کرنے کا بھی الزام ہے۔

اسی بارے میں