فلسطینی درخواست پر ابتدائی غور شروع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption توقع ہے کہ سلامتی کونسل فلسطینی درخواست کو ایک خصوصی کمیٹی کے حوالے کرے گی۔

اقوام متحدہ میں فلسطین کی جانب سے ریاست کا درجہ حاصل کرنے کی درخواست پر ابتدائی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

سلامتی کونسل بدھ کو اس درخواست پر باضابطہ غور شروع کرے گی تاہم اس قراداد پر ووٹنگ کا مرحلہ آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

اس درخواست کی منظوری کے لیے فلسطین کو سلامتی کونسل کے پندرہ میں سے نو ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔ اقوام متحدہ کے اجلاس میں وقفے کے دوران فلسطسینی سفیر ریاض منصور نے کہا کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی اکثریت آزاد فلسطینی ریاست کو قائم ہوتا دیکھنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا ’اب جبکہ اس درخواست پر کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے ہم توقع کرتے ہیں کہ سلامتی کونسل اپنی ذمہ داری کا احساس کرے گی۔ کیونکہ اب تک ایک سو اکتیس ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔ جو تمام رکن ممالک کی دو تہائی سے بھی بڑی اکثریت بنتی ہے۔‘

فلسطینی رہنماء محمود عباس نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں درخواست جمع کرائی تھی جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ سنہ انیس سو سڑسٹھ سے پہلے والی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے۔

توقع ہے کہ سلامتی کونسل فلسطینی درخواست کو ایک خصوصی کمیٹی کے حوالے کرے گی جس میں سلامتی کونسل کے تمام پندرہ اراکین شامل ہوں گے اور یہ کمیٹی اس درخواست کا بغور جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان براہِ راست مذاکرات ستمبر سنہ دو ہزار دس سے معطل ہیں۔ فلسطینیوں کے ان مذاکرات سے منہ موڑنے کی وجہ غربِ اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیرات تھی۔

اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا تھا کہ تنازع کی اصل جڑ یہودی بستیوں کی آبادکاری نہیں بلکہ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کو بحیثیت یہودی ریاست تسلیم کرنے سے انکار ہے۔

اسی بارے میں