ہلمند حملہ: آٹھ افغان پولیس افسر ہلاک

لشکر گاہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منگل کو ایک خود کش بمبار نے لشکر گاہ میں ایک مشہور بیکری پر حملہ کیا تھا

افغانستان کے صوبے ہلمند میں ایک چوکی پر ہونے والے حملے میں آٹھ افغان پولیس اہلکاروں کو گولی مار کرہلاک کر دیا گیا۔

افسران کا کہنا ہے یہ حملہ لشکر گاہ کے نزدیک طالبان کی جانب سے کیا گیا ہے ۔حملے میں تین پولیس افسر ہلاک اور ایک لاپتہ ہے۔

لشکر گاہ ان سات ایسے علاقوں میں سے ایک ہے جہاں نیٹو افواج کی جانب سے سکیورٹی افغان افواج کو سونپی گئی ہیں۔

غیر ملکی افواج 2014 تک افغانستان سے نکل جائیں گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری کا کہنا ہے کہ شدت پسند افغانستان کی سکیورٹی کی صورتِ حال خراب کر کے افغان فورسز کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتے ہیں۔

منگل کو ایک خود کش بمبار نے لشکر گاہ میں ایک مشہور بیکری پر حملہ کر کے پانچ لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

بدہ کے واقعہ کے بارے میں علاقے کے ایک سینئیر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ چوکی کے کسی پولیس اہلکار نے طالبان کی مدد کی ہے اور وہ ان کے ساتھ ہی فرار ہوگیا ہے۔

علاقے میں افغان انٹیلی جنس افسر کا کہنا ہے کہ طالبان نے اس پولیس اہلکار کو خرید لیا تھا اور اس نے یہ سب کچھ پیسے کے لیے کیا ہے کیونکہ اس کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کوئی مذہبی انسان نہیں تھا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ طالبان نے غیر ملکی افواج کی جانب سے تربیت یافتہ افغان فورسز میں شامل ہو کر انہیں کی مدد سے حالیہ مہینوں میں متعدد حملے کیے ہیں

اسی بارے میں