بحرین: حزب اختلاف کی سزائیں برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption عدالت نے حزبِ اختلاف کے رہنماوں اور کارکنوں کی سزاؤں کو برقرار رکھا ہے۔

بحرین میں خصوصی عدالت نے حزبِ اختلاف کے آٹھ رہنماوں کی عمر قید کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے۔

ان افراد کو اس الزام کے تحت کہ انہوں نے بحرین میں بادشاہت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنایا تھا پہلے ہی سزائیں سنائی جا چکی تھیں۔

اس کے علاوہ عدالت نے حزبِ اختلاف کے مزید تیرہ کارکنوں کی سزائیں بھی برقرار رکھی ہیں جو دو سے پندرہ برس قید کی سزائیں ہیں۔

بحرین کی سکیورٹی فورسز نے سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کی افواج کی مدد سے اس برس کے اوائل میں شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کو کچل دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بحرین سے اب بھی حکومت مخالف مظاہروں کی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔

تاہم اب بھی سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات اکثر آتی رہتی ہیں۔

فروری سے بحرین میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی قیادت میں جاری مظاہروں کے دوران سیکنڑوں لوگوں کو قید کیا گیا۔ یہ لوگ حکومت سے زیادہ حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ان مظاہروں میں اب تک چوبیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں چار پولیس اہلکار شامل ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد تیس ہے۔