شام کے خلاف پابندیوں کی تجویز حذف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پابندیاں عائد کیے جانے کے مخالفین میں بھارت، جنوبی افریقہ اور برازیل بھی شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں شامی حکومت کے خلاف قرارداد کی تیاری میں مصروف یورپی ممالک نے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف فوری پابندیاں عائد کرنے کی شِق مجوزہ قرارداد سے حذف کر دی ہے۔

برطانیہ، فرانس، جرمنی اور پرتگال کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد کو امریکہ کی حماحت حاصل ہے لیکن ابتدائی تجاویز کے مقابلے میں اب اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ شامی حکومت پر پابندیاں صرف اسی صورت میں عائد کی جائیں گی جب حکومت اپنے خلاف ہونے والے مظاہروں کو طاقت کے ذریعے روکنے کی کوشش کرے۔

تاہم شام کے خلاف قرارداد میں اس ترمیم کا مقصد چین اور روس کی حمایت حاصل کرنا ہے جو شام کے خلاف سخت قرارداد کے حق میں نہیں ہیں۔

خبر رساں ایجنسیوں کو موصول ہونے والی نقول کے مطابق اس قرارداد میں جلد از جلد تشدد کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں پابندیاں عائد کیے جانے کا ذکر ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور پرتگال نے ایک قرارداد پیش کی تھی جس کا مقصد شامی صدر بشارالاسد، ان کے حامیوں اور رشتے داروں کے خلاف پابندیاں عائد کرنا تھا لیکن روس اور چین کا کہنا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف کسی قسم کی پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد کو ویٹو کر دیں گے۔

پابندیاں عائد کیے جانے کے مخالفین میں بھارت، جنوبی افریقہ اور برازیل بھی شامل ہیں۔

ایک یورپی سفیر نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ وہ متحد ہو کر صدر بشارالاسد کی حکومت کو ٹھوس پیغام دینا چاہتے ہیں تاکہ ان کی حکومت عالمی برادری کے مطالبات کو نظر انداز نہ کرے۔

دوسری جانب شامی فورسز اب بھی حکومت خلاف احتجاج کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں اور اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق چھ ماہ پہلے شروع ہونے والے اس کریک ڈاؤن میں اب تک دو ہزار سات سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں