عطیہ دینے کا انوکھا انداز

جاپان سونامی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جاپان کا شمال مشرقی خطہ زلزلے اور سونامی سے پوری طرح تباہ ہو گیا تھا۔

جاپان میں ایک نامعلوم شخص نے ایک پبلک بیت الخلاء میں ایک لاکھ اکتیس ہزار ڈالر اس ہدایت نامے کے ساتھ چھوڑے ہیں کہ یہ رقم مارچ میں آنے والے زلزلے اور سونامی کے شکار لوگوں کی مدد کے لیے استعمال کی جائے۔

ایک سرکاری افسر ماسومی سکیگوشی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ رقم جو کہ ایک پلاسٹک کے شاپنگ بیگ میں تھی 22 ستمبر کو معذور لوگوں کے لیے بنائے گئے بیت الخلاء سے ملی۔

افسر کا کہنا تھا کہ اگر اس نا معلوم عطیہ کار نے تین ماہ کے اندراندر یہ رقم واپس نہیں لی تو رقم جاپان میں ریڈ کراس کو دیدی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اس رقم کے ساتھ ہاتھ سے لکھا ہوا ایک خط بھی ملا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ ’میں بالکل تنہا ہوں اور میرا کوئی مستقبل بھی نہیں ہے تو کیوں نہ یہ رقم ’تو ہوکو‘ کے لوگوں کے استعمال میں لائی جائے۔

’تو ہوکو‘ جاپان کا شمال مشرقی خطہ ہے جو زلزلے اور سونامی سے پوری طرح تباہ ہو گیا اس سانحہ میں بیس ہزار لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

ماسومی سکیگوشی کا کہنا تھا کہ ’اس واقعہ کا کوئی گواہ نہیں ہے اس لیے ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ کون ہے جس نے اتنی بڑی رقم چھوڑی ہے لیکن ساتھ ہی ہمیں اس انسان کی نرم دلی پر خوشی بھی ہو رہی ہے‘۔

اسی بارے میں