شدت پسند گروہوں سے تعلق پر مالی پابندیاں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ محکمۂ خزانہ نے مختلف شدت پسند گروہوں سے تعلق کی بنیاد پر ایک پاکستانی شہری سمیت پانچ افراد کے خلاف مالی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکہ کے دہشت گردی اور مالی انٹیلیجنس کے انڈر سیکرٹری ڈیوڈ کوہن کا کہنا ہے کہ یہ افراد طالبان، حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ کو سرمایہ اور معاونت فراہم کرتے تھے

واضح رہے کہ جمعرات کو امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کے بہت قریب ہیں کہ پاکستانی میں قائم حقانی نیٹ ورک کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا جائے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ’ ہم دہشت گردی کے خلاف جد و جہد جاری رکھیں گے۔ خاص طور پر ان کے خلاف جنہوں نے پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں۔ ہم پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

جمعہ کو امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کے تحت ان افراد کے امریکہ میں اگر کوئی اثاثے ہیں تو انہیں منجمد کردیا گیا ہے اور تمام امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی لین دین کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

جن افراد پر مالی پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں افغان نژاد عبدالعزیز اباسین شامل ہیں۔ امریکی محکمۂ خزانہ کا کا کہنا ہے کہ یہ ایک اہم کمانڈر ہیں اور حقانی نیٹ ورک نے ان کو افغانستان کے ایک انتہائی شورش زدہ علاقے کا سربراہ مقرر کر رکھا ہے۔

’اباسین طالبان جنگجوؤں کے ایک گروپ کے کمانڈر ہیں اور صوبہ پکتیکا میں غیر ملکی جنگجوؤں کا ایک تربیتی کیمپ چلا رہے ہیں، اس کے علاوہ افغان سکیورٹی فورسز کی سپلائی کے قافلوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔‘

اس کے علاوہ امریکہ محکمۂ خزانہ کے مطابق طالبان کو مالی معاونت فراہم کرنے والی ایک نمایاں شخصیت افغان نژاد حاجی فیض اللہ خان نورزئی، پاکستان میں کاروبار کرنے والے ان کے بھائی حاجی ملک نورزئی پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

محکمۂ خزانہ کے مطابق ’ان دونوں افراد نے طالبان کے مختلف کاروبار میں لاکھوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے۔‘

اس کے علاوہ ایک پاکستانی شہری عبدالرحمان بھی شامل ہیں جن کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ طالبان کے معاون اور ان کے لیے سرمایہ جمع کرتے تھے۔

ایک افغانی شہری فضل رحیم جو القاعدہ اور ازبکستان کی اسلامی تحریک کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

اسی بارے میں