القاعدہ رہنما العولقی کی ہلاکت کی تصدیق

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انوار العولقی امریکہ مخالف تقاریر کی وجہ شہرت رکھتے تھے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے القاعدہ کے سرکردہ رہنماء انوار العولقي کی یمن میں ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

صدر اوباما نے العولقی کی ہلاکت کو القاعدہ کے لیے ایک بڑا دھچکہ قرار دیا ہے۔

صدر اوباما نے اپنے بیان میں کہا کہ انوار العولقی نے بے گناہ امریکیوں کو مارنے کی منصوبہ سازی میں اہم کردار ادا کیا۔

اس سے پہلے یمن کے وزیر دفاع نے دعویٰ کہا تھا کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے القاعدہ کے سرکردہ رہنماء انوار العولقي کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

امریکی اور یمنی حکام نے بتایا ہے کہ العولقی کے قافلے پر ڈرون حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ یمن کے مشرقی علاقے میں ایک پہاڑی سلسلے میں کیا گیا جس میں تین اور شدت پسند بھی مارے گئے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کےمطابق امریکی انتظامیہ نے بھی انوار الوالقی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ انوار العولقی کو کس نے ہلاک کیا ہے۔

امریکہ میں پیدا ہونے والے انوار العولقی نوے کی دہائی میں سان ڈیاگو میں امام مسجد تھے اور نائن الیون کے دو مبینہ حملہ آور ان کےخطابات سننے آیا کرتے تھے۔

القاعدہ سے تعلق کی وجہ سے وہ 2007 سے امریکہ سے فرار ہوکر یمن میں چھپے ہوئے تھے۔ انوار العولقی پر امریکہ میں ہونے والے کئی دہشتگرد حملوں میں ملوث افراد کو حملوں کی ترغیب دینے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔

امریکہ نے انوار العولقی کو ’عالمی دہشت گرد‘ قرار دے کر انہیں ہلاک کرنے کے احکامات جاری کر رکھے تھے۔ اطلاعات کے مطابق صدر براک اوباما نے انوار العولقی کو ہلاک کرنے کے خصوصی احکامات جاری کیے تھے۔

یمن کی وزارت دفاع کے مطابق انوار العولقی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہلاک ہو گئے ہیں۔ وزارت دفاع نے العولقی کی ہلاکت کی مزید کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی تھی۔

یمن کے قبائیلی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ انوار الوالقی یمن کے مشرقی صوبے مارب میں ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ یمن کا صوبہ مارب شدت پسند گروہوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ انوار العوالقی کو یمنی فوج کے ہاتھوں یا امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے ہیں۔ امریکہ ماضی میں بھی انوار العولقی کو ہلاک کرنے کی غرض سے ڈرون حملے کر چکا ہے۔

انوار العولقی کو ہلاکت کی خبر یمن کے سرکاری ٹیلویژن پر نشر کی گئی۔

بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگار گورڈن کوریرا نے کہا ہے کہ اگر انوار العولقی کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی تو دہشتگردی کی جنگ میں بہت اہم کامیابی ہوگی۔ دفاعی نامہ نگار کے مطابق انوار العولقی سوشل میڈیا کے ذرائع کےذریعے القاعدہ کے نئے کارکنوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

انوار العولقی امریکہ میں کئی دہشتگرد حملوں میں مبینہ طور پر ملوث رہے ہیں۔

انوار العولقی نے کئی ویڈیو پیغامات میں امریکہ کو شیطان کی جماعت سے قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں