’پاکستان حقانی نیٹ ورک کے مسئلے کو حل کرے‘

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے بارے میں خفیہ معلومات واضح نہیں ہیں لیکن پاکستان کو اس گروپ کے ساتھ کسی سرگرم یا غیر مزاحم حمایت کو بند کرنا ہو گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر براک اوباما نے ایک امریکی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ میری رائے ہے کہ اگر پاکستان کی طرف سے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ کوئی سرگرم تعلقات ہیں یا اسے بغیر کسی مزاحمت کے سرحدی علاقے میں کارروائی کرنے کی استثنیٰ حاصل ہے تو اسے’ پاکستان کو‘ اس معاملے کو حل کرنا ہو گا۔

امریکی صدر نے سابق چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن کے حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے دیے گیے بیان پر کہا کہ’اگر ایڈمرل مائیک مولن کا یہ بیان اس حقیقت پر اضطراب کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک سمیت شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔‘

امریکی الزامات نے بنیاد ہیں: جنرل کیانی

حقانی نیٹ ورک کے خلاف ایکشن، امریکہ کا دو ٹوک پیغام

واضح رہے کہ ایڈمرل مولن نے کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک آئی ایس آئی کا بازو ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ محفوظ پناہ گاہوں کے معاملے پر واشنگٹن پاکستان کے ساتھ اپنے موقف پر سختی سے قائم رہے گا لیکن انٹیلیجنس کے اس تعاون کو بحال کیا جائے جس کے تحت ہم نے القاعدہ کا انتہائی موثر طریقے سے تعاقب کیا۔

امریکی صدر نے القاعدہ کے خلاف پاکستان کے تعاون کی تعریف کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ شدت پسندوں کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔

’اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلقات جیسے ہونے چاہیں تھے ویسے نہیں ہیں لیکن ہم ان پر دباؤ برقرار رکھیں کہ ان کی سرحدوں میں شدت پسندوں کی سرگرمیاں روکنا صرف ہمارے مفاد میں نہیں بلکہ خود ان کے مفاد میں ہیں۔‘

دریں اثناء جمعہ کو امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے امریکی فوج کے نئے سربراہ جنرل ڈمپسے کو خبردار کیا کہ افغانستان کی جنگ اُن کے لیے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہو گی اور خطے میں پاکستان سے شراکت کے بغیر امن کا قیام ممکن نہیں۔

ایڈمرل ملن نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلق، الجھا ہوا مگر اہم ہے۔

امریکی افواج کے نئے سربراہ جنرل مارٹِن ڈِمپسے اپنا عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ پاک افغان سرحدی علاقوں پر خاص توجہ دیں گے۔

اسی بارے میں