مصر: انتخابی قوانین میں ترمیم کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصر میں انتخابات کا آغاز اٹھائیس نومبر سے ہونا ہے

مصر میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق حکمران فوجی کونسل نے مظاہرین کے مطالبے پر ملک کے متنازع انتخابی قوانین میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے۔

مصر کی حزب مخالف کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اخوان المسلمین سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے متنازع انتخابی قوانین میں مناسب تبدیلیاں نہ کیے جانے پر مجوزہ انتخابات کے بائیکاٹ کی دھمکی دے رکھی تھی۔

موجودہ انتخابی قوانین کے تحت پارلیمان میں ایک تہائی مخصوص نشستوں پر سیاسی جماعتوں کی بجائے آزاد امیدوار منتخب ہوں گے۔

’اخوان المسلمین الیکشن لڑے گی‘

سیاسی اتحاد نے اپنے مطالبات تسلیم کرانے کے لیے فوجی حکومت کو اتوار تک کا وقت دیا تھا۔

واضح رہے کہ مصر میں انتخابات اٹھائیس نومبر کو منقعد ہونا ہیں اور ان انتخاب میں اخوان المسلمین فریڈم اور ایکوالٹی پارٹی مضبوط جماعتیں تصوّر کی جا رہی ہیں۔

دونوں جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا کہ پارلیمان کی تمام سیٹوں پر ان کے امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔

مصر میں سینتیس سیاسی جماعتوں کے ایک اتحاد نے مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ ’ہم اس وقت تک انتخاب میں شامل نہیں ہوں گے جس وقت تک انتخابی قوانین کی شق میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔‘

سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے مصر میں برسراقتدار فوجی کونسل سے مطالبہ کیا کہ سابق صدر حسنی مبارک کے دورِ حکمرانی میں طاقت کے ناجائز استعمال میں ملوث اہلکاروں پر آئندہ دس سال تک انتخاب میں حصہ لینے پر پابندی بھی لگائی جائے۔

دریں اثناء بعض اطلاعات کے مطابق مصر کی فوجی کونسل کا کہنا ہے کہ ملک میں نافذ ایمرجنسی قوانین کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

مصر میں سیاسی جماعتوں نے ایمرجنسی قوانین کے خاتمہ کا مطالبہ کیا ہے اور اس ضمن میں جمعہ کو احتجاجی مظاہرہ بھی ہوا تھا۔

اس سے پہلے امریکی سیکریٹری خارجہ ہلری کلنٹن نے مصر کی فوجی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ ملک میں نافذ ایمرجنسی کو جلد از جلد اٹھا لیا جائے۔

اسی بارے میں