مسجد پر شدت پسند یہودیوں کا حملہ

طوبہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی اسرائیل میں خلیلی کے طوبہ نامی گاؤں میں نذرِ آتش کی جانے والی مسجد کا اندرونی حال۔

اسرائیل کے علاقے خلیلی میں شدت پسند یہودیوں کے حملے سے ایک مسجد اور اس میں رکھی قدیم کتابوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

یروشلم سے بی بی سی کے نامہ نگار ویئر ڈیوس نے ایک مراسلے میں بتایا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے مسجد پر حملے کی خبر پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق شمالی اسرائیل کے علاقے خلیلی کے ایک عرب گاؤں طوبہ میں واقع مسجد پر صبح سویرے کیے جانے والے حملے کے دوران مسجد کو جلانے کی کوشش کی گئی۔

جس کے نتیجے میں درجنوں مقدس کتابیں جل گئیں۔ حملہ آوروں نے مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں ‘انتقام’ اور ‘قیمت’ کے الفاظ بھی لکھے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اس حملے کے بعد مسجد کی حالت کی تصاویر دیکھی ہیں اور ان پر انتہائی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ تصاویر ‘دھچکہ انگیز’ ہیں اور اس نوع کے واقعات کی اسرائیل میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل میں ایسی تمام پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے شدت پسند یہودی جن کے نتیجے میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور غربِ اردن میں یہودی آبادکاروں کی تعداد کم ہوتی ہو اپنی شناخت اور مہم کے لیے ‘پرائس ٹیگ’ یا ‘قیمت’ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

گذشتہ کچھ مہینوں کے دوران غرب اردن اور مشرقی بیت المقدس میں اس نوع کے حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور ان حملوں میں فلسطینیوں ہی کو نہیں اسرائیلیوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے طوبہ مسجد پر حملے کے حوالے سے پہلے ہی متعدد مشکوک افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

اسی بارے میں