سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قرارداد ویٹو

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption چار ممالک نے شام کے خلاف قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عوامی مظاہروں کو طاقت سے کچلنے پر شام کی حکومت کے خلاف پیش کی جانے والی قرار داد کو ویٹو کر دیا ہے۔

سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قرار داد پر بحث کے طوالت پکڑنے کی وجہ سے اس کو ویٹو کیے جانے میں تاخیر ہوتی رہی۔ یہ قرار داد یورپی ممالک نے مرتب کی تھی اور اس کو ویٹو سے بچانے کے لیے کافی نرم کیا گیا۔ اس قرار داد میں پابندیاں لگانے کے بجائے مخصوص اقدامات تجویز کیے گئے تھے۔

قبل ازیں امریکہ نے کہا تھا کہ سلامتی کونسل کو شام کے لیے واضح پیغام بھیجنا ہوگا کہ تشدد ختم ہونا چاہیے۔

بی بی سی نامہ نگار لارا ٹریولیان کا کہنا ہے کہ قرارداد کو ویٹو کیے جانے سے شام کے معاملے میں امریکی اور یورپی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔

جرمنی کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو شام میں سڑکوں پر احتجاج کرنے والوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

روس کا کہنا تھا کہ اس قرار داد کے مسودے میں بیرونی فوجی مداخلت اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کو یقینی بنانے کی بابت کچھ نہیں کہا گیا۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر نے کہا کہ ’یہ ویٹو ہمیں نہیں روک سکتا اور یہ شام کے حکمرانوں کو کھلی چھٹی نہیں دیتا۔‘

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قرار داد کے حق میں نو ووٹ آئے جبکہ چار ملکوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

امریکی سفیر سوزن رائس نے کہا کہ واشنگٹن کو اس پر شدید غصہ ہے۔ انہوں نے کہا یہی وقت تھا کہ شام کے خلاف سلامتی کونسل سخت پابندیاں عائد کرتی۔

اُدھر چین کے اقوامِ متحدہ میں سفیر لی بوڈونگ کا کہنا ہے ’بیجنگ سمجھتا ہے کہ موجودہ حالات میں پابندیاں یا پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیاں شام کے مسئلہ کو حل کرنے میں مدد نہیں کریں گی بلکہ یہ حالات کو مزید سنگین کردیں گی۔‘

لیبیا کے معاملے نے سلامتی کونسل کے اراکین میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ روس اور چین دونوں کا کہنا ہے کہ لیبیا کے معاملے میں منظور کی گئی قرارداد کا غلط استعمال کیا گیا ہے جس میں نیٹو کو اختیارات دیے گئے تھے کہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ نیٹو نے اس قرارداد کو کرنل قذافی کی حکومت گرانے کے لیے استعمال کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رابرٹ فورڈ شام کے صدر بشار الاسد سے ملاقات کر رہے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ووٹنگ سے اقوامِ متحدہ میں بڑی طاقتوں کے درمیان خلیج میں اضافہ ہوا ہے جبکہ شام کی حکومت کے خلاف اقدامات کرنے کے لیے بالکل مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب امریکہ میں کانگریس نے رابرٹ فورڈ کی شام کے سفیر کے طور پر تقرری کی توثیق کردی ہے۔ انہیں نو ماہ پہلے شام میں سفیر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا اور یہ پانچ سال کے وقفہ کے بعد شام میں امریکہ کے پہلے سفیر ہیں۔ انہیں صدر براک اوباما نے جنوری میں سفیر مقرر کیا تھا جبکہ حزبِ اختلاف ریپبلکن پارٹی نے صدر اوباما کے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔

ریپبلکن کا کہنا تھا کہ امریکی سفیر کی شام میں تقرری سے ایسا ظاہر ہوگا جیسے یہ صدر بشارالاسد کے خلاف سفارتی حملہ ہے۔ رابرٹ فورڈ نے شام میں اپنی تقرری کے بعد ان علاقوں کا دورہ کیا جہاں مظاہرے ہوئے اور وہ حزبِ اختلاف کے رہنماؤں سے بھی ملے جس سے شام کے حکام برہم ہوگئے۔

اسی بارے میں