کرزئی پر حملے کا منصوبہ ناکام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افغانستان میں حکومت کا کہنا ہے کہ صدر حامد کرزئی کو ہلاک کرنے کے ایک منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق افغان انٹیلیجنس ایجنسی نے چھ افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن میں صدراتی محل کے عملے کا ایک آدمی بھی شامل ہے۔

باقی لوگوں میں اکثر کا تعلق کابل کی جامعہ میں شعبۂ تدریس سے ہے۔

ان میں سے کچھ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کے شدت پسند تنظیم حقانی نیٹ ورک سے روابط تھے۔

گزشتہ چند مہنیوں میں حامد کرزئی کے کئی معتمد قاتلانہ حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں جن میں افغان امن جرگے کے سربراہ اور سابق افغان صدر برہان الدین ربانی اور حامد کرزئی کے بھائی بھی شامل ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ان گرفتاریوں کا تعلق پاکستان کو بدنام کرنے کے منصوبے سے بھی ہو سکتا ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان پاکستان کے حقانی نیٹ ورک سے مبینہ روابط کی وجہ سے کشیدگی کا شکار ہیں۔

نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سکیورٹی کے ترجمان لطف اللہ مشعل نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایک خطرناک اور پڑھے لکھے افراد پر مشتمل گروہ جس میں اساتذہ اور طالب علم شامل ہیں صدر حامد کرزئی کو ہلاک کرنا چاہتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ لوگ صدر کے ذاتی محافظوں میں بھی گھسنے میں کامیاب رہے اور صدر کے ایک محافظ کو اپنے ساتھ شامل کر لیا۔

لطف اللہ مشعل نے دعویٰ کیا کہ ان لوگوں کے القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک سے روابط تھے جو ان کے بقول پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں موجود ہے۔

یہ گروہ ایک ہفتے قبل گرفتار کیا گیا تھا جب افغان سکیورٹی فورسز کے ایلٹ دستوں نے کابل اور جلال آباد میں دو مختلف مقامات پر چھاپے مارے تھے۔

انھوں نے کہا کہ گروہ میں شامل چھ افراد نے حملہ کرنے کی تریبت گزشتہ مہینے حاصل کی تھی۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق اس گروہ کو دو عرب ماہرین نے شمالی وزیرستان میں تریبت دی تھی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے افغان حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کا ادارہ گروہ میں شامل باقی لوگوں کی تلاش میں ہے۔

صدر حامد کرزئی پر سنہ دو ہزار دو میں صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک تین قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔