صومالیہ میں امدادی آپریشن شروع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption الشباب نے کئی بین الاقوامی اداروں کو اپنے زیرِ نگرانی علاقہ جات میں امداد فراہم کرنے سے روکا ہوا ہے

بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس نے افریقی ملک صومالیہ میں قحط کا شکار دس لاکھ سے زیادہ لوگوں میں خوراک کی تقسیم کا عمل شروع کردیا ہے۔

ریڈ کراس کی امدادی کارروائیوں کا مرکز وہ علاقے ہیں جہاں اب تک کم مقدار میں امداد پہنچ سکی تھی۔

امدادی سامان ٹرکوں کے ذریعے بحری بندرگاہ سے ملک کے ان اندرونی حصوں میں پہنچایا جا رہا ہے جہاں شدت پسند تنظیم الشباب کا کنٹرول ہے۔

واضح رہے کہ الشباب نے کئی بین الاقوامی اداروں کو اپنے زیرِ نگرانی علاقہ جات میں امداد فراہم کرنے سے روکا ہوا ہے لیکن ریڈ کراس اپنی کارکردگی اور بیس سال سے صومالیہ میں متحرک ہونے کی وجہ سے الشباب سے ملک کے قحط زدہ علاقوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

ریڈ کراس کے صومالیہ میں ہونے والے امدادی آپریشن کے صدر جیف لون نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فی الوقت دنیا کا سب سے بڑا امدادی آپریشن ہے۔

انھوں نے کہا ’یہ ادارے کا سب سے بڑا آپریشن ہے اور ہمارا بجٹ بڑھا دیاگیا ہے جس کے ذریعے اگلے چند ماہ میں ہم اپنے امدادی پروگراموں کا پھیلاؤ بڑھا پائیں گے۔‘

جیف لون کا کہنا تھا کہ خوراک فراہم کرنے کے علاوہ ریڈ کراس کسانوں کو وہ وسائل فراہم کرے گی جن سے ان کی زمینوں کی پيداوار میں اضافہ ہو سکے۔

ان کا کہنا تھا ’اگر سب کچھ ویسا ہی ہوا جیسا ہم چاہتے ہیں تو کسان اس سال کے اختتام تک کچھ فصل کاشت کر پائیں گے۔‘

اسی بارے میں