سعودی عرب احتجاج، چودہ زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مشرقی علاقوں میں اس سال کے اوائل میں بھی احتجاج ہوئے تھے۔

سعودی عرب کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ تیل کے ذخائر سے بھرپور مشرقی سعودی عرب میں جھڑپوں کے دوران چودہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

میڈیا کا کہنا کہ صوبۂ قطیف میں پیر کی رات گئے شروع ہونے والی جھڑپوں کے پیچھے بیرونی ہاتھ ملوث ہے تاہم کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا۔

سعودی عرب میں شیعہ اکثریت ملک کے مشرقی علاقوں میں آباد ہے جہاں اس سال کے اوائل میں بھی احتجاج ہوئے تھے۔

سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت تین شہری ہیں۔

سعودی عرب کے خبررساں ادارے ایس پی اے نے وزارتِ داخلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے ’موٹرسائیکلوں پر قانون توڑنے والوں اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے ایک گروہ کے افراد قطیف شہر کے قریب واقع عوامیہ گاؤں میں جمع ہوئے جن کے پاس پٹرول بم تھے۔‘

خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ اس گروہ نے ایک ملک کے کہنے پر امن و امان کا مسئلہ پیدا کیا جس کا مقصد سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانا تھا۔ خبررساں ادارے نے کہا ’سعودی عرب کسی بھی گڑبڑ سے آہنی ہاتھ سے نمٹے گا اور ملک کی سلامتی کے خلاف کوئی بھی کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی حکام بیرونی مداخلت کا ڈھکے چھپے الفاظ میں ایران کو مورودِ الزام ٹہراتے رہے ہیں۔

مشرقِ وسطٰی اور افریقی عرب ممالک میں وہاں کی حکومتوں کے خلاف عوامی مظاہروں کے تناظر میں سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ نے اپنے ملک میں گزشتہ مارچ کے ماہ میں ممکنہ عوامی غصہ کو دبانے کے لیے ایک سو تیس ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا تھا۔

مارچ کے مہینے میں سعودی پولیس نے قطیف میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی تھی۔ شیعہ مسئلک سے تعلق رکھنے والے مظاہرین ان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے جنہیں ان کے بقول بغیر کسی الزام کے قید میں رکھا گیا ہے۔

حقوق کی تنظیموں نے قطیف میں ہونے والے گزشتہ مظاہروں میں پولیس پر مظاہرین کو زدوکوب کرنے کا الزام بھی لگایا تھا۔

سعودی عرب میں مظاہرے غیرقانونی ہیں جہاں سنہ انیس سو تیس کی دہائی سے مکمل بادشاہت ہیں۔

سنی اکثریت کے ملک سعودی عرب میں شیعہ آبادی کا تناسب تقریباً دس فیصد ہے۔

اسی بارے میں