عراق: ’امریکی فوجیوں کے لیے استثنیٰ ‘

لیون پنیٹا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس برس کے آخر میں عراق سے تمام امریکی فوجیوں کا انخلا ہو جائے گا مگر ان میں کچھ عراقی افواج کو تربیت دینے کے لیے وہاں بدستور تعینات رہیں گے۔

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ عراق میں اس برس کے اواخر میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد باقی رہ جانے والے امریکی فوجیوں کو مقامی قانون سے استثنیٰ حاصل ہونا چاہیے۔

عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ اس استثنیٰ کی ضرورت نہیں ہے۔

اس سلسلے میں امریکی اور عراقی حکومت کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

عراق میں اس وقت تینتالیس ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جبکہ اس برس کے آخر میں طے شدہ پروگرام کے مطابق ان میں سے چند ہزار رہ جائیں گے جن کا مقصد عراقی فوج کو تربیت دینا ہوگا۔

لیون پنیٹا کا کہنا تھا ’ہم اپنے فوجیوں کو تحفظ اور مناسب استثنیٰ فراہم کرتے ہیں۔‘

Image caption عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کو مقامی قانون سے استثنیٰ کی ضرورت نہیں ہے۔

اس برس کے آخر میں عراق سے تمام امریکی فوجیوں کا انخلا ہو جائے گا مگر ان میں کچھ عراقی افواج کو تربیت دینے کے لیے وہاں بدستور تعینات رہیں گے۔

عراقی کے سیاسی رہنماوں نے منگل کی رات کو ایک اجلاس میں شرکت کی جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تربیت کاروں کی ضرورت ہے لیکن انہیں مقامی قانون سے استثنیٰ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔

عراقی حکومت کے ترجمان علی الدباغ کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کے لیے عراقی قانون سے استثنیٰ ایسا نکتہ ہے جس پر دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف ہے۔ ’اگر اس بارے میں اتفاق نہیں ہو سکا تو امریکی فوجیوں کی تعداد کے بارے میں بھی اتفاق نہیں ہو سکے گا۔‘

مگر امریکی وزیر دفاع نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ عراق میں کسی بھی طرح کی امریکی موجودگی اس بات کی متقاضی ہے کہ امریکی فوجیوں کو مقامی قانون سے استثنیٰ حاصل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ابھی دونوں ملکوں کے درمیان زیرِ بحث ہے۔