امن کا نوبل انعام تین خواتین کے لیے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اس سال امن کا نوبل انعام تین خواتین کو مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔ ان خواتین میں لائبیریا کی صدر ایلن جانسن سِرلیف ، لائبیریا کی ہی لیما غبووِی اور یمن کی توکل کرمان شامل ہیں۔

ان تینوں خواتین کو یہ اعزاز حقوقِ نسواں اور خواتین کے تحفظ کے لیے پرامن جدوجہد کرنے اور قیامِ امن کے لیے بھرپور کوششیں کرنے پر دیا گیا ہے۔

جانسن سِرلیف افریقہ کی پہلی منتخب خاتون سربراہِ مملکت ہیں جبکہ لیما غبووی ایک امن کارکن ہیں اور توکل کرمان یمن میں جمہوریت کی حامی تحریک میں شامل ایک اہم شخصیت ہیں۔

اوسلو میں اس اعزاز کا اعلان کرتے ہوئے نوبل کمیٹی کے چیئرمین تربجارن جاگلینڈ کا کہنا تھا ’ ہم دنیا میں امن اور جمہوریت تب تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک خواتین کو بھی اتنے ہی مواقع حاصل نہ ہوں جتنے کے معاشرے میں مردوں کو آگے بڑھنے کے لیے ملتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’ناروے کی نوبل کمیٹی کو امید ہے کہ یہ اعزاز عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کا باعث بنے گا جو اب بھی دنیا کے کئی ملکوں میں موجود ہے اور اس سے جمہوریت اور قیامِ امن کے لیے خواتین کے کردار کی اہمیت سمجھنے میں مدد ملے گی۔‘

توکل کرمان یمن میں ایک تنظیم کی سربراہ ہیں جس کا نام ’وومن جرنلسٹ وِد آؤٹ چینز‘ یعنی زنجیروں سے آزاد خواتین صحافی ہے۔ انہیں یمن میں آزادی صحافت اور صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف مہمات میں حصہ لینے کے باعث کئی مرتبہ جیل جانا پڑا۔

وہ یمن میں حکومت کے خلاف بغاوت کے دوران حقوقِ نسواں کے لیے کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے پہچانی جاتی ہیں۔ وہ پہلی عرب خاتون ہیں جنہیں امن کا نوبل انعان ملا ہے۔

نوبل کمیٹی کے چیئرمین تربجارن جاگلینڈ کا کہنا ہے کہ عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک عرب دنیا میں ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ کرمن کو یہ اعزام دیا جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر عرب دنیا میں آنے والے انقلاب کو کامیاب ہونا ہے تو اس میں خواتین کا شامل کیا جانا کتنا ضروری ہے۔‘

بہتّر سالہ ایلن جانسن سِرلیف لائبیریا میں جاری چودہ سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد دو ہزار پانچ میں ملک کی صدر منتخب ہوئیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ وہ صرف ایک مدت کے لیے یہ عہدہ سنبھالیں گی لیکن اب وہ اگلے سال ہونے والے انتخابات میں دوبارہ حصہ لے رہی ہیں۔

لائبیریا سے ہی تعلق رکھنے والی لیما غبووِی خانہ جنگی کے دوران تشدد کے خلاف تنقید کرنے والوں میں اہم شخصیت تھیں۔ انہوں نے خواتین کو لسانی اور مذہبی بنیادوں پر قیامِ امن کے لیے محترک کیا اور انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی۔

پندرہ لاکھ ڈالر کی انعامی رقم تینوں خواتین میں تقیسم کی جائے گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یوں تو امن کا نوبل انعام ان شخصیات کو دیا جاتا ہے جو امن حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں اس کا دائرہ کار بڑھا کر اُن لوگوں کو حوصلہ افزائی کی گئی ہے جو امن کے لیے کوششیں اور کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔

اسی بارے میں