نیوزی لینڈ: تیل رسنے سے آبی حیات کو خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مال بردار بحری جہاز سمندر میں دھنسا ہوا نظر آرہا ہے۔

نیوزی لینڈ کے ساحل پر ایک مال بردار بحری جہاز سمندر میں موجود چٹان سے ٹکرا کر دھنس گیا ہے جس کے بعد اس میں سے سمندر میں تیل رِسنا شروع ہوگیا ہے۔

ملک کے وزیراعظم جان کی کا کہنا ہے کہ جہاز کے دھنسنے سے کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں جن کو جاننے کے لیے انکوائری شروع کردی گئی ہے۔

لائبیریا کے بحری جہاز ’رینا‘ کے سمندر کی تہہ میں دھنسنے کے بعد سے اب تک پانچ کلومیٹر دور تک بیس سے تیس ٹن تیل بہہ چکا ہے۔ اس جہاز میں سینتالیس ہزار ٹن تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے جبکہ اگر یہ جہاز مکمل طور پر ٹوٹ جاتا ہے تو اس میں موجود سترہ ہزار ٹن تیل سمندر میں بہہ سکتا ہے۔

وزیراعظم نے ساحل سے بارہ ناٹیکل میل دور دھنسنے والے جہاز کا ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی معائنہ کیا۔

نیوزی لینڈ نے بحریہ کے چار جہازوں کو سمندر سے تیل صاف کرنے پر مامور کیا ہے جو متاثرہ جہاز کو مزید تباہ ہونے سے بچانے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔

جس ساحل کے نزدیک یہ جہاز دھنسا ہے وہ سیاحوں کے لیے پرکشش ساحل گردانا جاتا ہے۔

اگر جہاز سے بڑی مقدار میں تیل رِستا ہے تو اس سے آبی حیات کو جس میں وہیل، ڈولفن، سِیلز اور پینگوئن شامل ہیں، شدید خطرہ ہوسکتا ہے۔

اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ بحری جہاز بدھ کو چٹان سے ٹکرانے کے بعد کس طرح سمندر کی تہہ میں دھنس گیا۔ اس جہاز میں سوار پچیس افراد کے عملے میں سے کسی کے بھی زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

جہاز راں کمپنی کا کہنا ہے کہ بحری جہاز کو وہاں سے ہٹانے سے قبل اس میں موجود تیل کو نکالنا ہوگا ورنہ مزید تیل رسنے کا خدشہ ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں