سرت میں دوبدو لڑائی، کئی ہلاکتیں

سرت ( فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سرت میں لڑائی میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں

لیبیا میں عبوری حکومت کی حامی فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے قدافی کی حامی فوج کو سرت میں چھوٹے علاقوں تک محدود کردیا ہے۔ سرت میں لڑائی دوسرے دن بھی جاری ہے۔

لیکن بھاری بمباری کے باوجود عبوری حکومت کے جنگجو اب تک سرت کے اہم گڑھ پر قبضہ نہیں کر پائیں ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں کی لڑائی میں سینکڑوں افراد کے مارے جانے اور ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

مصراتہ میں ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو سرت سے علاج کے لیے مصراتہ کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے جو اب مکمل طور پر بھر چکے ہیں اور اب لوگ فرش پر لیٹے ہوئے ہیں۔

سرت میں اب بھی ہزاروں شہری پھنسے ہوئے ہیں جہاں لڑائی سڑکوں پر پھیل چکی ہے۔

عبوری حکومت یہ اعلان کرچکی ہے کہ سرت پر قبضہ ہونے کے بعد وہ آزادی کا اعلان کردے گی چاہے وہ کرنل قدافی کو پکڑنے میں کامیاب ہو یا نہیں۔

اس سے قبل عبوری حکومت نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے کرنل معمر قذافی کے مرکزی شہر سرت کے بیشتر علاقے پر قبصہ کر لیا ہے۔

نیشنل ٹرانزیشنل کونسل یعنی این ٹی سی کے چئرمین مصطفٰی عبدالجلیل نے طرابلس میں کہا ’سرت میں شدید لڑائی جاری ہے جس میں کون فاتح ہوگا یہ ابھی نہیں کہا جاسکتا ہے۔‘

برطانوی وزیر دفاع لیئم فوکس نے سنیچر کو لیبیا کے دورے کے دوران کہا تھا کہ سرت پر فتح کے بعد بھی نیٹو کے ہوائی حملے جاری رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک قذافی کے حامی وہاں کی عوام کو ڈراتے رہیں گے تب تک عالمی جنگی کاروائی جاری رہے گی۔

انہوں نے طرابلس میں کہا تھا ’ہم قدافی کے حامیوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ قدافی کا کھیل ختم ہوگیا ہے۔ تمہیں لیبیا کے عوام نے مسترد کردیا ہے۔‘

جمعہ کو عبوری حکومت کے حامی جنگجو شدید لڑائی کے بعد سرت شہر میں کئی اطراف سے داخل ہوئے تھے۔ اس دوران انہیں کرنل قذافی کے حامیوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس سے پہلے عبوری حکومت کے حامی فوجی دستوں کی گاڑیاں مغرب اور مشرق سے شہر میں داخل ہوئی تھیں اور شہر کے مرکز کی جانب پیشقدمی کر رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرت میں اب سڑکوں پر دو بدو لڑائی جاری ہے۔

ہزاروں شہری پہلے ہی قافلوں کی صورت میں سرت چھوڑ کر جا چکے ہیں لیکن اب بھی بیشتر ایسے ہیں جو پیچھے رہ گئے ہیں۔

بی بی سی کے جونتھن ہیڈ نے سرت کے مضافات سے بتایا کہ پچھلے کچھ دنوں میں یہ اب تک کا سب سے بڑا حملہ ہے۔ شہر کے بیشتر علاقے توپوں کے گولوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں اور کئی عمارتوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ کرنل معمر قذافی کی جائے پیدائش سرت پر یہ آخری اور فیصلہ کن معرکہ ہے اور اس کے بعد لیبیا کے عوام ملک کے مستقبل کے بارے میں سوچ پائیں گے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے جمعرات کو قومی عبوری کونسل کی فوج کے کمانڈر کرنل عبدالسلام کا کہنا تھا کہ سرت کا تین چوتھائی حصہ اب ان کے قبضے میں ہے اور زیادہ سے زیادہ دو دنوں کے اندر سرت پر عبوری حکومت کا تسلط قائم ہو جائے گا۔

جمعے کو حملے سے گھنٹوں پہلے لیبیا کے معزول صدر معمر قذافی کا پیغام دمشق میں قائم ایک ٹی وی چینل سے نشر کیا گیا تھا جس میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے حامیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ بڑی تعداد میں سڑکوں پر آ کر عبوری انتظامیہ کے خلاف مظاہرے کریں۔

اسی بارے میں