شام: وزیرِ خارجہ ولید المعلم کی دھمکی

ولید المعلم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر خارجہ ولید المعلم لاطینی امریکہ کے پانچ ممالک کے وزرا کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے

شام نے کہا ہے کہ اگر کسی ملک نے حزبِ اختلاف کی نیشنل کونسل کو تسلیم کیا تو اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

شام کے وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے ان اقدامات کی تفصیلات تو نہیں بتائیں لیکن کہا کہ شامی قومی کونسل غیر قانونی ہے۔

چند روز قبل شام کی حزبِ اختلاف کی سات جماعتوں نے شامی قومی کونسل کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ مغربی ممالک بشمول امریکہ اور فرانس نے حزبِ اختلاف کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے لیکن کونسل کو باقاعدہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔

وزیر خارجہ ولید المعلم لاطینی امریکہ کے پانچ ممالک کے وزرا کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس مشترکہ پریس کانفرنس کا مقصد بظاہر یہ دکھانا تھا کہ صدر بشارالاسد کی حکومت کو ان ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس موقع پر شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’مجھے قومی کونسل کے اقدامت سے کوئی سروکار نہیں ہے لیکن اس بارے میں شام کا موقف یہ ہے کہ ہم ہر اس ملک کے خلاف سخت اقدامات کریں گے جو اس غیر قانونی کونسل کو تسلیم کرے گا۔‘

شام کی حزبِ اختلاف کی جانب سے قومی کونسل کے قیام کا اعلان تین اکتوبر کو ترکی میں کیا گیا تھا۔

ولید المعلم نے جرمی اور سوئٹزر لینڈ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ ممالک اپنے شہروں میں شام کے سفارت خانوں کو مظاہرین سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے۔

وزیرِ خارجہ ولید المعلم نے پریس کانفرنس کے دوران شام میں معروف کرد رہنما مشعل التمو کی ہلاکت کا ذمہ دار مسلح دہشت گردوں کو قرار دیا اور کہا کہ وہ ایک شہید ہیں جو شام میں غیر ملکی مداخلت کے خلاف تھے۔

کرد رہنما مشعل التمو کو جمعے کو نامعلوم مسلح افراد نے گھات لگا کر ہلاک کر دیا تھا۔

ان کی تدفین کے موقع پر ان کے آبائی قصبے قامشلی میں تقریباً پچاس ہزار افراد موجود تھے۔ یہ مجمع حکومت کے خلاف ایک مظاہرے کی شکل اختیار کر گیا تھا جس کو منتشر کرنے کے لیے شامی فوج نے فائرنگ کی جس میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں