قاہرہ: چوبیس عیسائیوں کی ہلاکت، صدر اوباما کی تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مصر کی حکمران فوجی کونسل نے واقعے کی فوری طور پر تحقیقات کرانے کی ہدایت کی ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے مصر میں قبطی فرقے سے تعلق رکھنے والے چوبیس عیسائیوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وائٹ ہاوس سے جاری ہونے والے بیان میں نومبر میں انتخابات کے طے شدہ منصوبے کے مطابق ہونے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

بیان میں صدر اوباما نے کہا ہے کہ مصر میں عیسائیوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے۔

ادھر مصر کی حکمران فوجی کونسل کے ایک رکن جنرل اسماعیل اتمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کے پاس عیسائیوں سے تنازعے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور فوج اقتدار کی پرامن منتقلی چاہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تدفین کے موقع پر لوگ غم سے نڈھال تھے۔

مصر میں حکمران فوجی کونسل نے متعلقہ وزراء کو اتوار کو قاہرہ میں چوبیس قبطی عیسائیوں کی ہلاکت اور سو سے زیادہ کے زخمی ہونے کے واقعہ کی فوری طور پر تحقیقات کرانے کی ہدایت کی ہے۔

قاہرہ میں اتوار کے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین کی سوموار کوگئی۔ اس دوران قبطی فرقے کے رہنماؤں نے سکیورٹی فورسز پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے اس تشدد کو روکنے کے لیے بھرپور کارروائی سے اجتناب کیا۔

مصر کی حکمران فوجی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ جہموریت کی طرف سفر میں کوئی روکاوٹ نہیں آئے گی اور آئندہ ماہ انتخابات کرائے جائیں گے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں گزشتہ روز عیسائیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم چوبیس افراد کی ہلاکت کے بعد ملک کے وزیرِ اعظم نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پرامن رہیں کیونکہ عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان پیدا ہونے والی یہ نا اتفاقی ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد ایک ٹیلی وژن خطاب میں وزیر اعظم اعصام شرف کا کہنا تھا ’ملک کی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ یہ ہے کہ ملکی اتحاد کو نقصان پہنچایا جائے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے تصادم کے باعث عام لوگوں اور فوج کے درمیان بھی تعلقات خراب ہوں گے۔

اس سے پہلے حکام نے قاہرہ شہر کے وسط میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا تھا۔

ہزاروں کی تعداد میں ایک عیسائی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد ایک گرجا گھر کو جلائے جانے کے خلاف قاہرہ کے وسطی علاقے میں احتجاج کر رہے تھے۔

گرجا کو جلانے کا واقعہ ملک کے جنوبی صوبے اسوان میں گزشتہ ہفتے پیش آیا تھا۔ عیسائیوں کا الزام ہے کے اس واقعے میں انتہا پسند مسلمان ملوث ہیں۔

ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے قاہرہ کے شمالی ڈسٹرکٹ شبرا سے سرکاری ٹی وی کی عمارت کی جانب مارچ شروع کیا جہاں وہ دھرنا دینا چاہتے تھے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ اسوان صوبے کے گورنر کو ہٹایا جائے۔ مظاہرین نے سرکاری ٹی وی پر بھی الزام لگایا کہ وہ عیسائیوں کے خلاف جذبات بھڑکانے کا کام کر رہا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ شروع ہونے سے پہلے ان پر سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے حملہ کیا۔

تشدد کا سلسلہ پہلے سرکاری ٹی وی سٹیشن کی عمارت کے باہر شروع ہوا لیکن جلد ہی یہ تحریر سکوائر تک پہنچ گیا۔ تحریر سکوائر سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کا گڑھ تھا۔

اس برس فروری میں صدر حسنی مبارک کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد سے فرقہ وارانہ نوعیت کا یہ سب سے پرتشدد واقعہ ہے جس میں دو سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں چھیاسی سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فروری میں صدر حسنی مبارک کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد سے فرقہ وارانہ نوعیت کا یہ سب سے پرتشدد واقعہ ہے۔

مصر کے وزیر اعظم اعصام شرف نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں اور فرقہ واریت کا حصہ نہ بنیں۔ انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر کہا ہے کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جھڑپیں نہیں ہیں بلکہ ملک میں انتشار پھیلانے کی ایک کوشش ہے۔

مصر میں اس برس مئی میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں پر حملوں میں بارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جبکہ مارچ میں تحریر سکوائر پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جھڑپوں میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مصر کی آٹھ کروڑ آبادی میں عیسائیوں کی تعداد دس فیصد ہے جو اکثر شکایت کرتے ہیں کہ انتظامیہ انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

اسی بارے میں