’گیلاد شالت کے عوض ایک ہزار فلسطینی‘

گیلاد شالت
Image caption سارجنٹ شالت 2006 میں پکڑے گئے تھے

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ فلسطینی شدت پسند گروہ حماس اور اسرائیل کے درمیان مغوی اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کی رہائی کا معاہدہ ہو گیا ہے۔

26 سالہ گیلاد شالت کی رہائی کے عوض اسرائیل تقریباً ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

غزہ سے بی بی سی کے نامہ نگار جان ڈونی سن نے بتایا کہ غزہ میں حماس کے فوجی ونگ کے ایک سینئیر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اسرائیلی کابینہ نے حماس کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق بظاہر یہ معاہدہ کرانے میں مصر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

اسرائیل کی جیلوں میں تقریباً چھ ہزار فلسطینی قید ہیں۔

سارجنٹ شالت 2006 میں سرحد پر ہونے والی ایک جھڑپ میں پکڑے گئے تھے اور ان کا کیس اسرائیل میں بہت مشہور ہو گیا تھا۔

اس سے قبل انہیں رہا کرانے کی اسرائیل کی کئی کوششیں نا کام رہی تھیں۔

نتن یاہو نے کا بینہ کے خصوصی طور پر طلب کیے گئے اجلاس کے بعد قومی ٹیلی وثرن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گیلاد شالت کچھ ہی دنوں میں گھر واپس آجائیں گے۔

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پانچ سال کے بعد آخر کار اسرائیل کو اس کیس میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔