’ایرانی ایجنٹوں کی امریکہ پرحملے کی سازش‘

امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر اور ایف بی آئی ڈائریکٹر رابرٹ مولر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر اور ایف بی آئی ڈائریکٹر رابرٹ مولر نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا

امریکہ کے مطابق اس نے دہشت گردی کی ایک بڑی سازش کو ناکام بنا دیا ہے جس میں ایرانی ایجنٹوں نے امریکہ میں سعودی سفارت کار کو مارنے کی سازش کی تھی۔

امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کے مطابق اس سلسلے میں دو ایرانیوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے جن میں ایک کے پاس امریکی پاسپورٹ ہے جنہوں نے واشنگٹن میں سعودی سفارت کار پرحملہ کرنےاور واشنگٹن میں ہی سعودی اور اسرائیلی سفارت خانوں پر دھماکے کرنے کی سازش تیار کی تھی۔

واشنگٹن سے نامہ نگار جانی ڈیمنڈ کا کہنا ہے کہ امریکی اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ پندرہ لاکھ ڈالر کی اس سازش کی ہدایت اور مددواعانت ایران کی جانب سے کی گئی ہے اور اس سازش میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے لیے تہران کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔

ایران نے فوری طور پر ان الزامات کی تردید کی ہے۔ایران کے سرکاری خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ یہ الزامات تہران کے خلاف امریکی ’پراپیگنڈہ مہم‘ کا حصہ ہیں۔

مسٹر ہولڈر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایک مشتبہ ایرانی شخص منصور اربابسیار کو جس کے پاس امریکی پاسپورٹ ہے گزشتہ ماہ نیو یارک میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک اور مشتبہ شخص غلام شکوری ایران میں لاپتہ ہے۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ مولر نے اس سازش کو ہالی ووڈ کی کسی فلم کی سکرپٹ کی طرح قرار دیا انہوں نے کہا کہ اس حملے میں کئی جانیں جا سکتی تھیں۔

اسی بارے میں