چین کو سزا دینے کے لیے امریکی بِل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ کا کہنا ہے کہ چین مصنوعی طور پر اپنی کرنسی کی قدر کم رکھے ہوئے ہے۔

امریکی سینٹ نے ایک مجوزہ قانون کی منظوری دی ہے جس کا مقصد چین کو اپنی کرنسی یوان کی قدر مصنوعی طریقے سے کم کرنے پر سزا دینا ہے۔

اس قانون میں ان ملکوں سے اشیاء کی درآمد پر اضافی ڈیوٹیز لگانے کی تجویز دی گئی ہے جو اپنی کرنسیوں کی قدر میں کمی کرکے برآمدات میں سبسڈی دیتے ہیں۔

کرنسی کی قدر تبدیل کرنے سے انکار

امریکہ میں قانون دان کہتے ہیں کہ چین کی کرنسی یوان کی کم قدر کی وجہ سے چین کو ناجائز فائدہ حاصل ہوتا ہے اور اس کی نقصان امریکہ میں ملازمتوں کی کمی کی صورت میں ہو رہا ہے۔

مجوزہ قانون اب بحث کے لیے ایوان نمائندگان میں بھیجا جائے گا جہاں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہے جو کہ اس قانون کے خلاف ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے اس بل کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ ’یہ اقدام چین اور امریکہ کے درمیان تجارت اور معاشی تعلقات کو نقصان پہنچائےگا۔‘

چین کے مرکزی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اس قدم سے تجارتی جنگ چھڑ سکتی ہے۔

لیکن امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ مجوزہ قانون امریکی لوگوں میں میں پائی جانے والی شدید مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکی قانون دانوں کا کہنا ہے کہ یہ بل اس بات کی علامت ہے کہ یہی وقت ہے کہ چین کی تجارتی پالیسیوں کی مخالفت کی جائے۔

اسی بارے میں