عرب سپرنگ سے پچاس ارب ڈالر کا نقصان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے مسلمان ملکوں میں طویل شخصی آمریتوں اور بادشاہتوں کے خلاف مقبول عوامی احتجاج کی لہر سے خطے کو پچاس ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔

جیو پولیسیٹی نامی ادارے نے مغرب میں ’عرب سپرنگ‘ کے نام سے مشہور ہونے والی اس عوامی تحریک کے بارے میں تحقیق کی ہے۔

تحقیق کے مطابق عوامی شورش کی سب سے زیادہ قیمت مصر، شام اور لیبیا کو ادا کرنا پڑی ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ خطے کے استحکام کے لیے عرب ریاستوں کی سربراہی میں اگر کوئی بین الاقوامی پروگرام نہیں بنا تو عرب سپرنگ کا الٹا اثر بھی ہوسکتا ہے۔

اقتصادی نقصان کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن موجود اعداد و شمار کے مطابق لیبیا کو چودہ اعشاریہ دو ارب ڈالر، شام کو ستائیس اعشاریہ تین اور مصر کو نو اعشاریہ سات نو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

لیکن بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عرب سپرنگ سے پورے خطے کو اقتصادی طور پر فائدہ پہنچا ہے خاص طور پر تیل پیدا کرنے والے ان ملکوں کو جو اب تک یا تو شورش سے محفوظ ہیں یا اسے کچلنے میں کامیاب رہے ہیں۔

لیبیا کو چند ماہ تک جاری رہنے والی عوامی تحریک سے سب سے نقصان ہوا ہے جہاں اس تحریک کے دوران سات لاکھ افراد دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور اس دوران ملک سے تیل اور گیس کی سپلائی میں متاثر ہونے سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچا۔

اسی بارے میں