برطانیہ: لیئم فاکس کا استعفیٰ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

برطانیہ کے وزیرِ دفاع لیئم فاکس نے اپنے ایک دوست اور خود ساختہ مشیر ایڈم وریٹی کو سرکاری معلومات تک رسائی دینے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

برطانیہ میں لیئم فاکس کے خلاف وزارتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر تحقیات کی جا رہی تھیں۔

سابق وزیر نے برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کو ایک تحریری خط جس میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ۔

دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم نے لیئم فاکس کو خط کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کے جانے کا افسوس ہے تاہم وہ اس کی وجوہات سمجھ سکتے ہیں۔

دریں اثناء برطانیہ کی حزبِ مخالف لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ لیئم فاکس نے ایک وزیر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے سرانجام نہیں دیں اور اسی لیے ان کے مستعفیٰ ہونا ناگزیر تھا۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے سابق وزیرِ دفاع لیئم فاکس پر دباؤ تھا کہ ان کے دوست ایڈم وریٹی بغیر کسی سرکاری عہدے کے اٹھارہ غیر ملکی دوروں میں ان کے ساتھ رہے اور اس دوران وہ دوسرے لوگوں کو اپنا بزنس کارڈ دیتے رہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ وہ ان کے ایڈوائزر ہیں۔

برطانیہ میں یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ مسٹر وریٹی کے بزنس معاملات کے لیے ان کو کس نے رقم فراہم کی اور آیا انہوں نے اس سے کوئی ذاتی فائدہ تو نہیں اٹھایا۔