عثمانوف کو سزا، بی بی سی کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بی بی سی نے تاجکستان میں نامہ نگار ارنبوئے عثمانوف کو کالعدم اسلامی گروپ حزب التحریر کے کارکن ہونے کے الزام میں سزا سنائے جانے پر مذمت کی ہے۔

تاجکستان کی عدالت نے بی بی سی کے نمائندے عثمانوف کو حزب التحریر کے کارکن ہونے پر تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔ تاہم عدالت نے سزا سنانے کے فوری بعد عثمانوف کو معافی دیتے ہوئے فوری طور پر رہا کردیا ہے۔

ایک بیان میں بی بی سی کا کہنا ہے کہ تاجکستان میں بی بی سی کے نمائندے عثمانوف کو مجرم قرار دینے کی مذمت کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عثمانوف اور بی بی سی تواتر سے کالعدم تنظیم سے روابط ہونے کے الزام کی تردید کرتے رہے ہیں اور عثمانوف بے قصور ہے۔

بی بی سی کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مقدمے کے دوران کسی قسم کے شواہد سامنے نہیں آئے اور ہمارے نامہ نگار کو مکمل طور پر بے قصور قرار دینا ہی قابلِ قبول ہے۔

عثمانوف کو تیرہ جون کو گرفتار کیا گیا تھا اور تاجک حکام نے ان پر کالعدم اسلامی گروپ حزب التحریر کے کارکن ہونے کا الزام لگایا گیا ہے جبکہ بی بی سی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔

ان کو جولائی میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

عثمانوف کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے کام کے سلسلے میں حزب التحریر کے کارکنوں سے ملاقات کی تھی جو وسطی ایشیاء کے طول و عرض میں فعال ہیں۔

بی بی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ عثمانوف کو معافی دے دی گئی ہے لیکن اس سزا کے خلاف عثمانوف اپیل کریں گے۔

بی بی سی کے گلوبل نیوز کے ڈائریکٹر پیٹر ہورکس نے کہا ہے ’ہم عثمانوف کی حمایت جاری رکھیں گے اور امید کرتے ہیں کہ اپیل میں ان کی بطور معزز لکھاری اور صحافی کی ساکھ دوبارہ حاصل ہو جائے گی۔‘

پیٹر ہورکس نے بیان میں مزید کہا ہے ’ہم عثمانوف پر حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے بھی حکام سے جواب طلب کرتے ہیں اور ہمیں قانونی عمل میں خامیوں پر بھی تشویش ہے۔‘

اسی بارے میں