امریکہ: خزاں میں بسنت

’آکیوپائي وال اسٹریٹ‘ تحریک، امریکہ
Image caption ’آکیوپائي وال اسٹریٹ‘ تحریک زوکوٹی پارک سے چند سو نوجوانوں نے شروع کی تھی

’یہ سول رائٹس موومنٹ پارٹ ٹو ہے‘میرے بیٹے نے نیویارک میں وال اسٹریٹ پر ہونیوالی احتجاجی تحریک کو مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی انیس سو ساٹھ کی دہائي والی تحریک کا تسلسل کہا جو کہ اب اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہوچکی ہے۔ میں اسے امریکہ کی آیم آر ڈی کہتا ہوں۔

اگرچہ یہاں دنیا کی اس سب سے پرانی جمہوریت میں کوئي ضیاءالحق تخت نشیں نہیں ہے لیکن ہزاروں امریکی بہرحال اس ایک مربع میل میں ’اقتصادی مارشل لاء‘ کے خلاف جدوجہد کرنے نکلے ہیں جسے میں سرمایہ داروں کا سوویت یونین کہوں گا۔

آکیوپائي وال اسٹریٹ مہم گزشتہ ماہ سترہ ستمبر کو کینیڈا کے جریدے ’ایڈبسٹر‘ کی اپیل پر امریکہ کی وال سٹریٹ کے ساتھ والے زوکوٹی پارک سے چند سو نوجوانوں نے شروع کی تھی اب نیویارک سمیت امریکہ کے آٹھ سو چھوٹے بڑے شہروں میں یہ مہم پھیل چکی ہے۔ بلکہ اب تو اگر اسے شمالی امریکہ سے اٹھنے والی تحریک کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا کیونکہ اب یہ کیینڈا کے شہروں ٹورنٹو اور وینئکوئر تک پہنچ چکی ہے۔

’آکیوپائي وال اسٹریٹ‘ تحریک کا نہ تو کوئی تنظیی ڈھانچہ ہے، نہ اسے کسی پارٹی کا ٹھپہ اور نہ اسکا اینجڈا یا مطالبات کی فہرست ہے۔یہ تحریک امریکہ میں بقول ان لوگوں کے’ کارپوریٹ لالچ‘ اور امیر غریپ کے درمیاں ہونے والی خلیج کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ میں طبقاطی جنگ کا بگل بج چکا ہے؟

یہ امریکہ کے بے تاج شہزادے اور شہزادیاں اقتصادی جبر کے خلاف اٹھ کر آئے ہیں جنہیں شروع ميں تو دو ہفتوں تک امریکی مین اسٹریم الیکٹرانک پرنٹ میڈیا نے جگہ نہیں دی یہاں تک کہ ’وال اسٹریٹ جرنل‘ جو کہ زیادہ تر وال اسٹریٹ اور دنیا کے معاشی سیاسی امور کو کور کرتا ہے اس میں بھی یہ امریکی نوجوان دو کالمی خبر نہیں بن سکے تھے۔ لیکن اب وال اسٹریٹ تحریک والوں نے امریکہ سمیت دنیا بھر کی نامور اور نیک نام شخصیات کو اپنی طرف کھینچا ہے ۔

اس تحریک نے ’سیٹیزن جرنلزم ‘ ایجاد کی ہے جسکا مطلب ہے کہ اپنی کیمروں اور موبائل فون پر تصاویر اورخبریں آپ اپنی فیس بک یا ’ آکوپائی وال اسٹریٹ‘ کی ویب سائٹ پر پوسٹ کرسکتے ہیں ۔

امریکہ میں بائيں بازو نظریات کے حامی پروفسر نوم چومسکی جنہوں نے امریکہ کی موجودہ اقتصادی صورتحال کو ’بیروزگاری کا بڑا بحران‘ قرار دیا ہے انہوں نے وال اسٹریٹ تحریک کو امریکی تاریخ کا ایک انتہائي غیر معمولی اور امید افزا واقعہ قرار دیا ہے۔

’ کیا آپ لوگ بائيں بازو نظریات کے حامی ہو‘ میرے ایک صحافی دوست نے اپنی نظریاتی تشفی کیلیے زوکوٹی پارک میں دھونی رمائے ان نوجوانوں سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا’ نہیں ہم لوگ کسی بازو کے نہیں‘

وال اسٹریٹ تحریک والوں کے ساتھ زوکوٹی پارک میں آکر یکجہتی کا اظہار و حمایت کرنے والوں میں کئی چيدہ شيخصیات شامل ہیں جن میں فلسماز مائیکل مور، نوبیل انعام یافتہ امریکی ماہر جوزف اسٹگلٹز، اداکارہ سوسن ساراڈون، امریکی ریپ سنگر کینی ویسٹ ، ہپ ہاپ بزنس دنیا کے کروڑ پتی رسل سائمنس شامل ہیں ۔ جبکہ وال اسٹریٹ کی حمایت کرنے والوں میں لکھاری و ناول نگار سلمان رشدی اور پولینڈ کے نوبیل انعام یافتہ رہنما لیچ ولیسا بھی شامل ہیں۔ امریکہ کی سب سے بڑی مزدور یونینوں کی چھتری تنظیم امریکن فیڈریشن آف لیبر (اے ایف ایل- سی آئی او) نے بھی انکے ساتھ مظاہروں میں شامل ہوکر انکی حمایت کا اظہار کیا ہے۔امریکی صدر باراک اوبامہ نے بھی ان نوجوانوں کو ’حق پر‘ قرار دیا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ میں طبقاتی جنگ کا بگل بچ چکا ہے ؟اس کا جواب شاید اتنا آسان نہ ہو لیکن یہ لوگ موجودہ اقتصادی نظام کی جگہ ایک نئے سماجی آرڈر کی بات ضرور کر رہے ہیں۔

ان مظاہرین کی سب سے متاثر کن بات انکا ممکل طور پرامن ہونا ہے۔میڈیا ان احتجاجی نوجوانوں کا کھڑکی توڑ تصور دیکھنا چاہتی ہوگی لیکن یہ انیس سو ساٹھ کی دہائی کی سول حقوق کی تحریک کی یاد دلاتے ہیں۔

یہ امریکی عرب اسپرنگ تو نہیں پر خزآں میں بسنت ضرور ہے۔

اسی بارے میں