امریکہ: یوگنڈا میں فوجی بھیجنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی فوجی مزاحمتی گروہ لارڈز لبریشن آرمی، یا ایل آر اے کے سربراہ جوزف کونی کو ہدف بنانے میں علاقائی فورسز کی مدد کریں گے

امریکی صدر براک اوباما نے افریقی ملک یوگنڈا میں ایک مزاحمتی گروہ کے خلاف کارروائی میں مدد کے لیے ایک سو امریکی فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

صدر اوباما کی جانب سے کانگریس کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ جنگی آلات سے لیس فوجی علاقائی فورسز کو معلومات اور مشورے دیں گے۔

فوجیوں کا ایک مختصر فوجی گروپ پہلے ہی یوگنڈا میں موجود ہے اور اسے بعد ان کو وسطی افریقہ کے دیگر ممالک میں تعینات کیا جا سکے گا۔

یوگنڈا کے مزاحمتی گروہ لارڈز لبریشن آرمی یا ایل آر اے خطے میں اغواء، ریپ اور قتل کے واقعات میں ملوث ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے خط میں میں لکھا ہے کہ’میں نے جنگی آلات سے لیس فوجیوں کی ایک محددو تعداد کو وسطی افریقہ میں تعینات کرنے کا کہا ہے جو وہاں ایل آر اے کے رہنماء جوزف کونی کے خلاف کارروائی کرنے والی فورسز کو معاونت فراہم کریں گی۔‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جنگی ہتھیاروں سے مسلح امریکی فوجی صرف اپنے دفاع کی صورت میں کارروائی کریں گے لیکن وہ ایل آر اے فورسز کے خلاف براہ راست کارروائی نہیں کریں گے۔

امریکی صدر نے امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی مدت کے حوالے سے کوئی تفیصل بیان نہیں کی ہے تاہم امریکی فوج کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی اس وقت تک علاقے میں ضرورت کے مطابق موجود رہیں گے جب تک علاقائی سکیورٹی فورسز اپنے طور پر آزادانہ کارروائی کے قابل نہیں ہوتی ہیں۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار مارکس جارج کے مطابق انتہائی جدید آلات سے لیس امریکی فوجی’ہلاک یا گرفتار‘ کی پالیسی کے تحت علاقائی فوج کی معاونت کریں گے۔

اسی بارے میں