سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف احتجاج جاری

روم تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روم میں ہونے والے مظاہروں میں ستر افراد زخمی ہوئے ہیں

سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف امریکہ سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک میں احتجاج جاری ہے۔

امریکہ سے شروع ہونے والا میں ہونے والا احتجاج سنیچر کو ایشیا، افریقہ اور یورپی ممالک تک پھیل گیا تھا۔

دریں اثناء نیویارک میں ستر کے قریب مظاہرین کو گرفتار کیا ہے جبکہ روم میں مظاہرے کے دوران ستر افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

آکلینڈ سے ٹورنٹو تک اور لندن سمیت کئی بڑے شہروں میں مظاہرین نے سنیچر اور اتوار کی رات تجارتی مراکز کے قریب خیموں میں گزاری ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ میں کارپوریٹ لالچ، بنکوں کی مبینہ لوٹ کھسوٹ، بے گھری اور بیروزگاری جیسے مسائل کے خلاف، بیروزگار اور بے گھر امریکی گذشتہ سترہ ستمبر سے وال سٹریٹ پر احتجاج کر رہے ہیں۔

لندن میں مظاہرین کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد نیویارک کے مظاہرین کی پیروی کرنا ہے جو کئی روز سے شہر کے مرکزی تجارتی علاقے میں خیمہ زن ہیں۔

نیویارک میں پولیس نے ’وال سٹریٹ پر قبضہ کرو‘ کے نام پر احتجاج کرنے والے ستر مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔

پولیس نے پینتالیس مظاہرین کو ٹائم سکوائر سے گرفتار کیا جب کہ چوبیس کو واشنگٹن سکوائر پر واقع سٹی بینک کے معاملات میں مبینہ طور پر مداخلت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

دوسری جانب اٹلی کے دارالحکومت روم میں ستر افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

روم کے سٹی سینٹر میں پولیس اور پرتشدد مطاہرین کے درمیان لڑائی ہوئی زخمیوں میں تین کی حالت نازک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اطلاعات کے مطابق روم کے مرکزی حصے میں مظاہرین نے ایک بینک پر حملہ کرنے کے علاوہ متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔

یورپ کی سڑکوں پر ہزاروں لاکھوں لوگ نکل آئے ہیں اور روم میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ستر افراد زخمی ہو گئے ہیں۔مظاہرین نے کاروں اور کوڑے کے ڈبوں میں آگ لگائی۔

اطالوی وزیرِاعظم برلسکونی نے وعدہ کیا ہے کہ پرامن مظاہرے میں شریک فسادیوں کو سزا دی جائے گی۔

سنیچر کو ’وال سٹریٹ پر قبضہ کرو‘ کے عنوان سے چلنے والی اس تحریک کے حق میں پوری دنیا میں سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لوگوں نے کاروں اور کوڑے کے ڈبوں کو آگ لگائی

’وال سٹریٹ پر قبضہ کرو‘ کی تحریک سے متاثر ہو کر مظاہرین نے ایشیا سے یورپ تک احتجاج کیا ہے۔

منتظمین نے ویب سائٹ پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ پندرہ اکتوبر کے احتجاج کا مقصد ’اس عالمگیر تبدیلی کا آغاز ہے جو ہم چاہتے ہیں۔‘

پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم ایک آواز کے ذریعے سیاست دانوں اور مالیاتی اداروں کو چلانے والے افراد کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے۔‘

دنیا کے 82 ملکوں میں اس سلسلے میں ہونے والے مظاہرے پر امن رہے۔

نامہ نگار کے مطابق مظاہرین دنیا میں جاری اقتصادی بحران پر جس نے غریب اور نوجوانوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے جنجھلاہٹ کا شکار ہیں۔

سڈنی، ٹوکیو، ہانگ کانگ، ایتھنز اور برلن میں بھی ہزاروں افراد نے مظاہرے کیے ہیں۔

اسی بارے میں