الشباب کی کینیا کو دھمکی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

القاعدہ سےمنسلک صومالیہ کے شدت پسند گروہ الشباب نے کینیا کو خبر دار کیا ہے کہ وہ صومالیہ کی سرزمین سے نکل جائے ورنہ ایک خونی جنگ کے لیے تیار ہو جائے۔

کینیا کی فوج صومالیہ کی سرحد کے اندر شدت پسند تنظیم الشباب کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے۔ الشباب کے ترجمان علی محمد راگے نے بی بی سی کی صومالی سروس سے بات کرتے ہوئے کہ اس الشباب کے جنگجو کینیا پر حملہ کر دیں گے۔

صومالیہ کا شدت پسند گروہ جنوبی صومالیہ کے اکثر علاقوں پر قابض ہے۔ الشباب نے ایک بار تردید کی ہے کہ وہ کینیا سے غیر ملکیوں کے اغوا میں ملوث ہے۔

الشباب کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم اپنا دفاع کریں گے ، کینیا جنگ کا مطلب نہیں سمجھتا، ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ کیا ہوتی ہے۔

الشباب کے ترجمان نے کہا کہ کینیا کی بلند و بالا عمارتوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔

کینیا کے فوجی صومالیہ کی سرحد عبور کر کے اسلامی شدت پسند تنظیم الشباب کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔

کینیا کے فوجیوں کا صومالیہ کی سرحد عبور کرنے کا فیصلہ حالیہ ہفتوں میں کینیا سے غیر ملکی امدادی کارکنوں اور سیاحوں کو اغوا کر کے صومالیہ لے جانے کے واقعات کے بعد کیا گیا ہے۔

عینی شاہدین نے بی بی سی کے نمائندے کو بتایا کہ کم از کم پچیس بکتر بند گاڑیاں جن میں کینیا کے فوجی سوار ہیں، صومالیہ کی سرحد میں داخل ہو چکے ہیں۔

کچھ اطلاعات کے مطابق کینیا کے فوجی ہیلی کاپٹروں نے صومالیہ میں کئی مقامات پر بمباری کی ہے۔

حالیہ دنوں میں کینیا کی سرزمین سے کئی غیر ملکی سیاحوں کو اغوا کر کے صومالیہ لے جایا گیا ہے۔

صومالیہ کے شدت پسند گروہ الشباب نے تردید کی ہے کہ وہ کینیا سے غیر ملکیوں کے اغوا میں ملوث ہے۔