رہائی کے بعد گیلاد شالت اسرائیل میں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گیلاد شالت اسرائیل پہنچنے کے بعد وزیراعظم نتن یاہو سے ملے

فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے پانچ سال اپنی قید میں رکھنے کے بعد اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کو رہا کر دیا ہے۔

ان کی رہائی قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے ذریعے عمل میں آئی ہے جس کے تحت اسرائیل نے چار سو ستتر فلسطینی قیدی منگل کو رہا کیے ہیں جبکہ مزید پانچ سو پچاس اگلے دو ماہ میں رہا کیے جائیں گے۔

پچیس سالہ گیلاد شالت کو منگل کی صبح غزہ اور مصر کے درمیانی علاقے رفاہ لے جایا گیا جہاں انہیں اسرائیلی نمائندوں کی موجودگی میں مصری حکام کے حوالے کیا گیا۔

ادھر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر زبردست جشن کا سماں ہے۔ ان میں سے کئی قیدی کئی کئی عشروں سے اسرائیلی جیلوں میں قید تھے۔

سارجنٹ گیلاد شالت کو پانچ سال پہلے سنہ دو ہزار چھ میں حماس کے جنگجوؤں نے مقبوضہ غزہ کے سرحدی علاقے میں ایک جھڑپ کے دوران پکڑ لیا تھا۔

فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے گاڑیوں کے ذریعے مقبوضہ فلسطینی علاقوں غزہ اور غربِ اردن لے جایا گیا۔ مقبوضہ غربِ اردن میں قیدیوں کو فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کیا گیا جبکہ غزہ لے جائے جانے والے قیدیوں کو مصر کی سرحد پر مصری حکام کے ذریعے غزہ بھجوایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسرائیل نے چار سو ستتر فلسطینی قیدی منگل کو رہا کیے ہیں

غزہ میں ہزارہا فلسطینیوں نے رہا ہونے والوں کا ایک بڑی ریلی میں خیرمقدم کیا۔ استقبال کرنے والوں میں پانچ برس پہلے فلسطینی عام انتخابات میں فتح حاصل کرنے والی حماس کے وزیراعظم اسمٰعیل ہانیہ اور حماس کے سرکردہ رہنما شامل تھے۔

مقبوضہ غرب اردن میں اسرائیلی قید سے رہائی پانے والوں کو فلسطینیوں نے کندھوں پر اٹھا کر رملہ کی سڑکوں پر گشت کیا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے اس موقع پر رہا ہونے والوں کو فلسطینی تحریک آزادی کے مجاہد قرار دیا جنہوں نے اپنے مقصد کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان یہ معاہدہ ایک جرمنی اور مصر کی ثالثی کے ذریعے کیا گیا تھا کیونکہ اسرائیل حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے اور اس سے براہِ راست مذاکرات پر تیار نہیں تھا۔

رہا ہونے والے افراد میں سے چالیس لوگوں کو مصر، شام اور ترکی جلاوطن کیا جائے گا۔ اسرائیل کی جیلوں میں تقریباً چھ ہزار فلسطینی قید ہیں اور اسرائیل خواتین سمیت ان لوگوں کی رہائی کے مطالبات رد کرتا رہا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے ’میں ایسے افراد کو رہا کرنے کے دکھ کو سمجھ سکتا ہوں جو آپ کے پیاروں کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث تھے اور انہیں پوری سزا نہیں دی جاسکی۔‘

پیر کو اسرائیل کی سپریم کورٹ نے فلسطینی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مارے جانے والوں کے اہلِ خانہ کی جانب سے اس عمل کو اڑتالیس گھنٹے تک معطل کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

اسی بارے میں