شام: جھڑپوں میں مزید اکیس افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حمص میں مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔

شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں مزید اکیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ ہلاکتیں شام کے شہر حمص میں ہوئی ہیں اور انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی ایک برطانوی تنظیم کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں شہری اور پولیس اہلکار دونوں شامل ہیں۔

شام کا تیسرا بڑا شہر حمص صدر بشارالاسد کے خلاف مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں کا مرکز رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں مارچ سے اب تک پرتشدد واقعات میں تین ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حمص کے علاقوں خالدیہ اور بابِ صبا میں ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کو تعینات کردیا گیا ہے۔

غیر مصدقہ اطلاع ہے کہ ایک جنازے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایک مقامی شہری منال نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا ’سڑکیں بلاک ہونے کی وجہ سے شہر کے علاقے ایک دوسرے سے کٹ کر رہ گئے ہیں جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کے واقعات عام ہوچکے ہیں۔‘

حکومت کا کہنا ہے کہ حمص میں مسلح دہشت گرد گروہ سرگرم ہوگئے ہیں جو شہریوں کو ہلاک کررہے ہیں۔

انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی برطانوی تنظیم کے نمائندے رامی عبدالرحمان نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ فوج سے مبینہ طور پر بغاوت کرنے والے افراد نے صوبۂ عندلیب کے علاقے اعصام میں ایک فوجی گاڑی کو نذرِ آتش کردیا جبکہ فوج کے ایک افسر اور تین فوجیوں کو بھی ہلاک کردیا۔ تاہم اس اطلاع کی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔

اتوار کو عرب لیگ نے شام کی حکومت اور حزبِ اختلاف پر زور دیا تھا کہ وہ پندرہ روز کے اندر مذاکرات شروع کریں۔

مصر میں ہونے والے عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس میں شام کی رکنیت معطل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں نے شام سے اپنے سفیروں کو احتجاج کے طور پر پہلے ہی واپس بلالیا ہے۔

اسی بارے میں