افغانستان: فرانس کے دو سو فوجیوں کی واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فرانس کے افغانستان میں تقریباً چار ہزار فوجی تعینات ہیں۔

افغانستان سے فرانس کے دو سو فوجیوں کی واپسی کے ساتھ فرانسیسی فوج کے انخلا کا آغاز ہو گیا ہے جس کا اعلان فرانس کی جانب سے تین ماہ قبل کیا گیا تھا۔

مزید دو سو فوجی اس برس کرسمس سے پہلے افغانستان سے چلے جائیں گے جو نیٹو کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت دو ہزار چودہ تک لڑائی میں شامل تمام فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔

فرانس کے افغانستان میں تقریباً چار ہزار فوجی تعینات ہیں۔ دو ہزار ایک سے اب تک فرانس کے پچھتر فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

فرانس کے زیادہ تر فوجی کابل صوبے کے ڈسٹرکٹ سروبی اور اس کے پڑوسی صوبے کپیسا میں تعینات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغانستان میں دو ہزار ایک سے اب تک فرانس کے پچھتر فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

فرانس کے وزیر دفاع جیراڈ لونگے کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اپنی فوجوں کا بتدریج انخلا کر رہا ہے اور ان علاقوں کا انتظام افغان فوج کے حوالے کر دیا جائے گا۔

فرانس کے صدر نیکولا سرکوزی نے اس برس جولائی میں افغانستان کے دورے کے دوران اپنی فوج کے انخلا کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور بیلجیئم سمیت کئی دوسرے ممالک بھی افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلا کے منصوبے کا اعلان کر چکے ہیں۔

افغانستان کے کئی علاقوں سے امریکی اور کینیڈین فوجی سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان فورسز کے حوالے کر کے پہلے ہی جا چکے ہیں۔

امریکہ کے اعلان کردہ منصوبے کے تحت اس کے تینتیس ہزار فوجی دو ہزار بارہ تک چلے جائیں گے۔

اسی بارے میں