’طالبان امن کا حصہ بنیں ورنہ کارروائی ہوگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہلری کلنٹن نے عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن اور سیاستدانوں سے بھی ملاقات کی

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ طالبان یا تو افغانستان میں امن کا حصہ ہو سکتے ہیں یا پھر جاری کارروائیوں کا سامنا کریں گے۔

یہ بات انہوں نے کابل میں افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے پاکستان سے کہا کہ وہ انتہا پسندوں کو پناہ گاہیں فراہم نہ کرے۔

طالبان کے خلاف جنگ میں تیزی، خطے میں قیامِ امن، افغانستان اور امریکہ کے درمیان طویل المدت سٹریٹیجک تعلقات اور افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کا کردار امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن اور افغان صدر حامد کرزئی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے اہم موضوعات تھے۔

ادھر حامد کرزئی نے طالبان کے ساتھ مسلسل بات چیت کے عمل کو مسترد کر دیا ہے اور پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک جو طالبان کی حمایت کرتا ہے وہی اس عمل کی سربراہی کرے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن جمعرات کو غیر اعلانیہ دورے پر افغانستان پہنچیں۔ وہ جمعرات کی شام کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچیں گی۔

افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات سے قبل انہوں نے عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن، محکمہ تعلیم کے حکام اور سیاستدانوں سے امریکی سفارتخانے میں ملاقات کی۔

انہوں نے اس ملاقات میں کہا ’میں زمینی حقائق جاننے کے لیے آئی ہوں۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ افغان عوام مستقبل کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں۔‘

اس سے قبل امریکی اہلکار نے ہلری کلنٹن کے کابل پہنچنے پر میڈیا کو بتایا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ افغان صدر پر طالبان کے ساتھ مفاہمت کے عمل کو جاری رکھنے پر بھی زور دیں گی۔

افغان صدر حامد کرزئی نے حال ہی میں کئی اہم افغان رہنماؤں کے قتل پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

ہلری کلنٹن افغان حکومت کو قائل کریں گی کہ امریکہ افغانستان سے طویل عرصے کے روابط رکھنا چاہتا ہے۔

امریکی اہلکار نے میڈیا کو بتایا ’امریکی وزیر خارجہ افغان حکومت کو باور کرائیں گی کہ امریکہ محفوظ اور مستحکم افغانستان کے حق میں ہے۔‘

اہلکار کے مطابق ہلری کلنٹن یقین دہانی کرائیں گی کہ امریکہ افغان مفاہمتی عمل کے حق میں ہے اور افغان صدر کی حمایت کرتا ہے۔

اسی بارے میں