امریکی فوجیوں کا قتل، پسِ پردہ کہانی

عزت اللہ وزیروال تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’عزت اللہ وزیروال ایک نرم مزاج نوجوان تھا‘

سنہ دو ہزار دس میں بے داغ ریکارڈ والے ایک افغان سرحدی پولیس افسر نے اپنے چھ امریکی فوجی ساتھیوں کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کردیا تھا جب وہ ایک تربیتی مشق کے دوران وقفے میں چائے پی رہے تھے۔

افغان پولیس اہلکار نے ایسا کیوں کیا؟ ان کی ذاتی زندگی اور ان کے موبائل فون کی تفتیش کے بعد اس قتل کے پیچھے بعض وجوہات سامنے آئی ہیں۔

شدت کی سردی کا ایک دن جب ننگرہار صوبے کی پہاڑیاں برف سے ڈھکی ہوئی تھیں، اور امریکی فوجی افغانستان کی سرحدی پولیس کو ٹریننگ کے دوران وقفہ لے رہے تھے، عزت اللہ وزیروال نے اپنے امریکی ساتھیوں کو چائے کی دعوت دی۔

عزت اللہ کے ایک ساتھی کے مطابق ’ٹریننگ دینے والے امریکی فوجی چائے پینے کے لیے آرام سے بیٹھے اور انہوں نے اپنی بندوقیں زمین پر رکھ دیں اور تبھی عزت اللہ نے گولی چلا دی‘۔

وزیروال تین برس سے سرحدی پولیس اہلکار کے طور پر کام کررہے تھے۔ ان کے بھائی جو خود بھی سرحدی پولیس اہلکار ہیں، انہوں نے وزیروال کو یہ کرتے ہوئے دیکھا تھا۔

وزیروال نے پہلے چھ امریکی فوجیوں پر گولی چلائی اور پھر خود کوگولی مار لی۔

عزت اللہ نے ایسا کیوں کیا؟ پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کی تعیناتی سے پہلے ان کے ذاتی ریکارڈز کی تصدیق کے لیے ذمہ خفیہ اداروں نے مجھے بتایا کہ تعیناتی کے وقت عزت اللہ کا ریکارڈ میں کوئی کمی نہیں تھی لیکن اب ہمیں یقین کہ وہ طالبان کا آدمی تھا۔ حالانکہ وزیروال کا خاندان اور ان کے دوست اس دلیل کو مسترد کرتے ہیں۔

عزت اللہ کا تعلق ننگرہار صوبے کے مشرقی علاقے میں پہاڑی گاؤں کھیوگنی سے تھا۔ عزت اللہ کےگاؤں میں قبائلی بزرگ عزت اللہ کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایک نوجوان شریر لڑکا تھا جسے اپنے دوستوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے اور پڑوسیوں کے باغات سے چوری کرنے میں مزا آتا تھا۔

وزیروال کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ وزیروال کی طالبان سے کوئی دوستی نہيں تھی بلکہ یہ لوگ پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔

ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وزیروال طالبان کی جانب سے روزمرہ کی زندگی میں مداخلت سے پریشان تھا۔ وزیروال کے بچپن کے دوست کا کہنا ہے ’عزت اللہ کو ڈر تھا تھا کہ طالبان ان سے پوچھيں گے کہ پولیس میں داخل ہونے کی ان کی ہمت کیسے ہوئی‘۔

اپنے ہم عمر نوجوانوں کی طرح وزیروال کو بھی بیس برس کی عمر میں عشق ہوا۔ انہیں جلال آباد ہائی سکول کی ایک طالبہ سے عشق ہوا تھا۔

عزت اللہ نے اس لڑکی کو جلال آباد میں ایک آئس کریم کی دوکان میں دیکھا تھا۔ اس لڑکی سے میں نے بات کی اور ان کا کہنا تھا کہ عزت اللہ ایک نرم مزاج، مزاحیہ اور خیال رکھنے والا نوجوان شخص تھا۔

عزت اللہ کے ایک دوست انجینئر محمد ابراہیم کہتے ہیں ’عزت اللہ کا خواب تھا کہ جلال آباد میں اس کا ایک گھر ہو اور وہ اس گھر میں اپنی معشوقہ کے ساتھ رہے‘۔

محمد ابراہیم کے موبائل فون میں عزت اللہ کی ایک ویڈیو ریکارڈنگ ہے جس میں وہ اپنی معشوقہ سے بات کررہے ہیں۔

فون پر اپنی معشوقہ سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ’میں وہ نہیں ہوں جو تم سمجھتی ہوں۔ میں رات کو آؤں گا اور تم سے ملاقات کروں گا۔ میرے پاس گاڑی بھی ہے۔ ہم ساتھ خوش رہیں گے‘۔

وزیروال کے فون میں پشتو زبان کے نغمے بھرے پڑے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی اداکارہ اور بالی وڈ اداکارہ ایشوریا رائے کا بھی فوٹو موجود ہے۔

لیکن فون میں طالبان کی تعریف والے پشتو زبان میں نغمے بھی موجود ہیں۔ ایک گانے کے بول ہیں ’تم اسلام کے شہید ہو۔ تم اللہ کے مذہب کی لڑائی لڑرہے ہو۔ خدا اس طرح کی شہادت نہیں بھولتا ہے‘۔

خفیہ ایجنسی کے ایک اہلکار کا جن کا تعلق اتفاق سے وزیروال کے گاؤں سے ہے کہنا ہے کہ اس طرح کے نغمے سن کر وہ عزت اللہ کے نظریے کے بارے میں ابہام کا شکار ہیں۔

لیکن اس طرح کے نغموں سے بہت زیادہ کچھ ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ افغانستان میں بہت سارے لوگوں کے موبائل میں اس طرح کے نغمے ہوتے ہیں اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی طالبان سے کوئی ہمدردی ہے۔

حالانکہ اس طرح کے اشارے ضرور ملتے ہیں کہ حملے سے چند ہفتے پہلے وزیروال کی ذہنیت میں تبدیلی ہورہی تھی۔

جلال آباد میں ان کی معشوقہ کا کہنا ہے کہ حملے سے تین مہینے پہلے سے وزیروال نے فون نہیں کیا تھا جبکہ ان کے دوست ابراہیم کا کہنا ہے کہ وزیروال کی نوکری کے دوران شدت پسندوں سے ان کی جھڑپیں انہیں کمزور کرتی جارہی تھیں۔

لیکن خفیہ ایجنسیوں کے لیے سب سے اہم تفتیش یہ ہے کہ حملے سے تین روز پہلے وزیروال نے کوہ گیانی کا سفر کیا تھا۔ ان کو یقین ہے کہ کوہ گیانی میں وزیروال اپنے چچا کے ساتھ رہے جوے طالبان کے مقامی کمانڈر کے ساتھ لڑائی میں شامل تھے۔

حالانکہ وزیروال کے دوست اس بات پر یقین نہیں کرتے ہیں۔ ان کے دوست محمد یسین کا کہنا ہے ’ان کے چچا نے انہیں بلیک میل کیا ہوگا ۔ ہم آپ سے کہ رہے ہیں وہ طالب نہیں تھا‘۔

خفیہ اہلکاروں اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ حملے سے پہلے وزیروال نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا جس سے ان پر شک کیا جاسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان سیکورٹی فورسز کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ شدت پسندوں کو وزیروال جیسے نوجوان لوگوں کو متاثر نہ کرنے دیں۔

انسداد دہشت گردی کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی وزیروال جیسے اہلکار باغی بن سکتے ہیں کیونکہ بہت ساری فوجی ایسے علاقوں سے آتے ہیں جہاں طالبان کا غلبہ ہے۔

اسی بارے میں