شام: فائرنگ سے تیرہ مظاہرین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لیبیا کے رہنما کرنل قذافی کی ہلاکت سے شام میں حزبِ اختلاف کے جوش میں اضافہ ہوا ہے

شام میں حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ ملک کے کئی علاقوں میں نمازِ جمعہ کے بعد ہونے والے مظاہروں پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے تیرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شام میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے ادارے کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں حمص شہر میں ہوئیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ حمص میں دس جبکہ دیرعا اور حما میں تین افراد ہلاک ہوئے۔

تاہم ان ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ شام میں غیر ملکی صحافیوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں جبکہ معلومات کی رسائی پر حکومت کا سخت کنٹرول ہے۔

مبصرین کے خیال میں لیبیا کے رہنما کرنل قذافی کی ہلاکت سے شام میں حزبِ اختلاف کے جوش میں اضافہ ہوا ہے جو ہر جمعہ کو سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کرتے ہیں۔

معاریت النعمان نامی قصبے میں مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ ’ قذافی گیا، بشارالاسد اب تمھاری باری ہے۔‘

شام کے لبنان کی سرحد کے پاس قصبے قصیر میں شامی افواج نے مظاہروں کو روکنے کے لیے تمام مساجد کو بند کروا دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اس برس مارچ میں شروع ہونے والی تحریک میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اب تک تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر نہتے مظاہرین تھے۔

اسی بارے میں