قذافی کو ہلاکت کا ذمہ دار ہوں: کمانڈر

قذافی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قذافی پائپ سے نکالے جانے کے بعد دس قدم چلے اور زمین پر گر گئے۔

لیبیا کے سابق حکمراں کوگرفتار کرنے والے دستوں کے ایک کمانڈر عمران الویب نے کہا ہے کہ وہ جمعرات کو معمر قذافی کی ہلاکت کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

بی بی سی سے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے ہی قذافی کو اُس ڈرینج پائپ سے نکالا تھا جہاں وہ زخمی ہونے کے بعد جا چھپے تھے۔

عمران الویب کا کہنا ہے کہ یہ بتانا ناممکن ہے کہ وہ گولی کس نے چلائی تھی جو قذافی کی موت کا باعث بنی لیکن انہوں نے کرنل قذافی کی جان بچانے کی پوری کوشش کی لیکن جب انہیں ہسپتال لے جایا جا رہا تھا تو وہ زخموں کی تاب نے لاتے ہوئے چل بسے۔

الویب نے جمعرات کو سرت کے نواح میں قذافی کی گرفتاری کے موقع پر ڈرینج پائپ کے قریب ہونے والے لڑائی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جب کرنل کو ڈرینج پائپ سے کھینچ کر نکال لیا گیا تو وہ دس قدم کے قریب چلے اور پھر زمین گر گئے۔

انہوں اس بات کا اعتراف کیا کہ قذافی کے مخالف جنگجؤں میں سے کچھ سابق آمر کو وہیں مار ڈالنا چاہتے تھے لیکن انہوں نے نے انہیں ایسا کرنے سے روکا۔

تاہم اس کے ساتھ ہی انجینئر سے انقلابی کمانڈر بننے والے عویب نے کہا کہ ’سیدھی بات یہ ہے کہ قذافی لڑائی کے دوران مارے گئے ہیں اور میں اس کا ذمہ دار ہوں‘۔

اسی بارے میں