کرنل قذافی کو خفیہ طور پر دفنا دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

لیبیا میں حکام کا کہنا ہے کہ کرنل قذافی، ان کے بیٹے اور وزیر دفاع کی لاشوں کو صحرا میں خفیہ طور پر دفنا دیا گیا ہے۔

دریں اثناء کرنل قذافی کے آبائی شہر سرت میں تیل کے ٹینک میں میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم پچاس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

عبوری حکومت کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ لاشوں کو منگل کی علی الصبح کسی نامعلوم مقام پر دفنا دیا گیا ہے۔

لیبیا میں مختلف دھڑوں میں اس بات پر اختلاف تھا کہ کرنل قذافی کی لاش کے ساتھ کیا کیا جانا چاہیے۔

کرنل قذافی کے خاندان کا اصرار تھا کہ کرنل قذافی کو ان کے آبائی شہر سرت میں سپرد خاک کیا جانا چاہیے لیکن عبوری کونسل نے کسی نامعلوم مقام پر دفنانے کا عندیہ دیا تھا۔

اس سے پہلے ملنے والی اطلاعات کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ کرنل قذافی، ان کے بیٹے اور قریبی ساتھی کی لاش کو پیر اور منگل کی درمیانی شب کو مصراتہ کے سرد خانے سے منتقل کر دیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق رائٹرز کے مطابق عبوری حکومت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ کرنل قذافی کی لاش کو سادگی سے دفنایا جائے گا۔

’یہ صحرا میں کوئی نامعلوم جگہ ہو گی اور سپردِ خاک اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ کرنل قذافی کی لاش خراب ہونا شروع ہو گئی تھی اور اس مزید رکھا نہیں جا سکتا تھا۔‘

اس سے پہلے لیبیا کی نیشنل ٹرانزیشنل کونسل کے سربراہ مصطفٰی عبدالجلیل نے کرنل قذافی کی ہلاکت کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ بیس اکتوبر کوکرنل معمر قذافی اپنے آبائی شہر سرت پر حملے کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔

قوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی کمیشن کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات بھی ہونی چاہیئیں کہ لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قدافی کی ہلاکت کیسے ہوئی۔

حقوقِ انسانی کے لیے اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر نوی پلے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ موبائل فون سے بننے والی ویڈیو فلم سے پتہ چلتا ہے کہ معمر قذافی کو حراست میں لیا گیا تھا اور اس کے بعد ان کی ہلاکت ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اس کی تحقیقات لازمی ہیں۔

لیبیا کی عبوری حکومت نے ان خبروں کی تردید کی تھی کہ کرنل قذافی کو پکڑنے کے بعد ہلاک کیا گیا۔

عبوری حکومت کا کہنا تھا کہ انہیں جھڑپ کے دوران سر پر گولی لگی تھی۔

اسی بارے میں