’اقتدار کی لڑائی‘ سے امریکہ تذبذب میں

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری اقتدار کی کشمکش کی وجہ سے اس سے رابطہ کرنے کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں کیونکہ یہ واضح نہیں کہ ملک کون چلا رہا ہے۔

بی بی سی کی فارسی سروس سے بات چیت میں محترمہ کلنٹن نے کہا ’اب ہمیں اس بات کا پورا یقین نہیں ہے کہ آخر فیصلے کون کرتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال سے ایران فوجی ڈکٹیٹرشپ کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے دوروازے کھلے ہوئے ہیں۔

ہلری کلنٹن نے بتایا کہ وزارت خارجہ طلباء کو ویزا سے متعلق آن لائن معلومات فراہم کرنے کے لیے رواں سال کے اختتام تک ایک ورچؤل سفارت خانہ کھولنےکا منصوبہ بنا رہی تھی۔

امریکہ نے ایران سے سنہ انیس سو اسّی میں اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے تب سے دونوں میں سرکاری سطح پر کوئی رابطہ نہیں ہے۔

بات چیت کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایرانی حکومت کے اندر ہی اقتدار کی لڑائی ایرانیوں کے لیے ایک مثبت موقع بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ ’میرے خیال سے عوام کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ اس سے متعلق جاری بحث پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں کہ وہ کیا رخ اختیار کرے۔‘

محترمہ کلنٹن نے کہا کہ واشنگٹن میں سعودی سفیر کے قتل کے منصوبہ کے متعلق امریکہ نے ایران پر جو الزامات لگائے ہیں اس کے بارے میں شکوک وشبہات سے وہ اچھی طرح واقف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس ’بہت ٹھوس ثبوت ہیں‘ اور یہ منصوبہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قدس جیسی تنظیمیں کتنی ’ناعاقبت اندیش‘ ہیں۔

ہیلری کلنٹن نے ایران پر اس کے پڑوسیوں کے ساتھ ’جارحانہ رویہ‘ اپنانے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ وہ عرب دنیا میں آئی موجودہ بیداری کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہم ایران کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں چاہتے لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ ایران کے حکمراں اپنے رویےمیں تبدیلی لائیں۔‘

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے انیس سو اٹھاسی میں امریکی فوج کی طرف سے ایک ایرانی مسافر بردار جہاز مار گرائے جانے اور مصدق کی حکومت کا تخت الٹنے میں امریکی کردار پر افسوس کا اظہار کیا۔