لیبیا: بین الاقوامی فوجی مشن کا خاتمہ

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption فوجی مشن کے دوران اتحادی افواج کے طیاروں نے لیبیا میں مختلف مقامات پر ایک ہزار اہداف کو نشانہ بنایا

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر لیبیا میں آئندہ پیر کو بین الاقوامی فوجی آپریشن کے خاتمے کی منظوری دے دی ہے۔

لیبیا میں کرنل قذافی کی فورسز کی عام شہریوں پر حملوں کے بعد مارچ میں سلامتی کونسل نے اس آپریشن کے تحت لیبیا پر نو فلائی زون قائم کرنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کی منظوری دی تھی۔

لیبیا میں بین الاقوامی فوج مشن کے خاتمے کا اطلاق آئندہ پیر یا اکتیس اکتوبر کی درمیانی شب سے قبل ہو گا۔

لیبیا کی عبوری کونسل کی جانب سے نیٹو کے مشن کی مدت میں اضافے کی درخواست کے باوجود سلامتی کونسل میں فوجی مشن کے خاتمے کے قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کا کہنا ہے کہ قرار داد کی منظوری کی حق میں ووٹ’ ایک پرامن جمہوری لیبیا کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔‘

اقوام متحدہ میں لیبیا کے سفیر کا کہنا ہے کہ لیبیا کی عبوری کونسل کو ملک میں سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے مزید وقت کی ضرورت ہے۔

تاہم سکیورٹی کونسل کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے مینڈیٹ کو پورا کیا جا چکا ہے اور آئندہ سکیورٹی سے متعلق کسی بھی ضرورت پر علیحدہ سے بات چیت کی جائے گی۔

بین الاقوامی مشن کے تحت اتحادیوں نے لیبیا پر چھبیس ہزار پروازیں کیں اور ایک ہزار اہداف کو نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ بدھ کو لیبیا کی نیشنل ٹرانزیشنل کونسل کے سربراہ مصطفٰی عبدالجلیل نے نیٹو سے کہا تھا کہ وہ ملک میں اپنا مشن کی مدت میں رواں سال کے اختتام تک اضافہ کرے کیونکہ ملک میں اضافی اسلحے پر کنٹرول اور کرنل قذافی کے حامیوں سے نمٹنے کے لیے نیٹو کے مشن میں اضافے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں