فلسطینی شدت پسند ہلاک

غزہ میں زخمی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لڑائی بڑھنے کی صورت میں مزید فلسطینی قیدیوں کی رہائی مشکل میں پڑ سکتی ہے

غزہ کے جنوبی علاقوں پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری میں پانچ فلسطینی شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس ماہ کے شروع میں فلسطینی تنظیم حماس اور اسرائیلیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے بعد یہ تشدد کا سب سے سنگین واقعہ ہے.

یہ لوگ رفاہ میں اسلامی جہاد کے ایک تربیتی کیمپ میں ہلاک ہوئے۔ ڈاکٹرو ں کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کم سے کم دس لوگ زخمی بھی ہوئی ہیں۔

اسرائیلی فضائیہ نے حملوں کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسند اسرائیل پر راکٹ حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں تین مقامات پر حملہ کیا اور اس کے علاوہ اسلحے کی فیکٹری پر بھی حملہ کیا۔

اسلامی جہاد غزہ کے بڑے شدت پسند گروپوں میں سے ایک ہے لیکن یہ براہ راست حماس سے وابستہ نہیں ہے۔ تنظیم سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے وہ اس حملے کا بدلہ لے گی۔

اسرائیل کی طرف سے یہ حملے اس وقت کیے گئے جب ان کے اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو دو ہفتے بھی نہیں ہوئے۔ اسرائیل کی طرف سے رہا کیے گئے پانچ سو لوگوں میں کچھ اسلامی جہاد کے ارکان بھی شامل تھے۔

قیدیوں کے تبادلے کے اس معاہدے کے تحت پانچ سو مزید قیدی اس سال کے آخر میں رہا کیے جانے ہیں۔ غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان ڈانیسن نے کہا کہ تشدد اگر پھیل گیا تو مزید قیدیوں کی رہائی کھٹائی میں پڑ سکتی ہے۔

.

اسی بارے میں