امیر ملکوں میں بےامیدی بڑھ رہی ہے

نائجیریا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نائجیریا میں ستر فی صد سے زیادہ لوگ پُر امید ہیں۔

دنیا کے پچیس ملکوں میں بی بی سی ورلڈ سروس کی طرف سے کرائے گئے رائے عامہ کے ایک جائزے سے پتہ چلا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں معاشی صورتحال کے بارے میں لوگوں کے خیالات مختلف ہیں۔

امیر ملکوں کے لوگ عموماً بےامیدی کا اظہار کر رہے ہیں تو دوسری طرف ابھرتی ہوئی معیشتوں والے ملکوں کے لوگ نسبتاً پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔

جائزے کے مطابق جاپان، فرانس اور برطانیہ میں معاشی بہتری کی امید رکھنے والے لوگوں کی شرح یک عددی یعنی سنگل ڈیجٹ میں اور نو فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔

جب کہ ترقی پذیر دنیا میں معاشی بہتری کی امید رکھنے والے لوگوں کی شرح دولت مند ملکوں میں بے امیدی کا اظہار کرنے والوں کی شرح سے زیادہ ہے اور یہ صورتحال تقریباً ہر اس ترقی پذیر ملک میں پائی گئی ہے جہاں رائے عامہ کا یہ جائزہ لیا گیا ہے۔

افریقی ملک نائیجیریا میں تو ستر فیصد سے زیادہ لوگ پرامید دکھائی دیتے ہیں۔

یہ جائزہ عالمی ادارے گلوب سکین نے اس سال جولائی سے ستمبر کے دوران کیا ہے جس میں پچیس ہزار لوگوں سے ان کی رائے معلوم کی گئی ہے۔

اسی دوران یورو زون میں سامنے آنے والے مالی بحران سے معاشی غیریقینی مزید گہری ہوئی ہے۔

اسی بارے میں